Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 92. Al-Lail · Ayah 5

  1. فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰى وَ اتَّقٰىۙ﴿5﴾

    1. فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰىسو جس نے دیا
    2. وَاتَّقٰىاور پرہیزگاری اختیار کی
Translation · Tadabbur-e-Quran
سو جس نے انفاق کیا اور پرہیز گاری اختیار کی
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اس فرق کی تفصیل جو نیکوں اور بدوں کی کمائی میں ہو گا: یہ تفصیل ہے اس فرق و اختلاف کی جو لازماً نیکوں اور بدوں کی کمائی میں رونما ہو گا اور جس کو رونما ہونا چاہیے بھی۔ فرمایا کہ جو اللہ کی راہ میں خرچ کرے گا، اپنے رب سے ڈرے گا، اچھے انجام کو سچ مانے گا اس کو تو ہم آسان راہ چلائیں اور آسانی کی منزل تک پہنچائیں گے۔ ’اَعْطٰی‘ کے بعد ’وَاتَّقٰی‘ کے ذکر سے مقصود اس حقیقت کا اظہار ہے کہ اس انفاق سے مقصود ریاء و نمائش یا کوئی اور دنیوی چیز نہ ہو بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی تمنا اور ایک ایسے دن کا خوف ہو جس دن نیک عمل کے سوا کوئی چیز کام آنے والی نہیں بنے گی۔ اس کی وضاحت سورۂ دہر میں یوں ہوئی ہے: یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ وَیَخَافُوْنَ یَوْمًا کَانَ شَرُّہُ مُسْتَطِیْرًا ۵ وَیُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہِ مِسْکِیْنًا وَیَتِیْمًا وَأَسِیْرًا ۵ إِنَّمَا نُطْعِمُکُمْ لِوَجْہِ اللہِ لَا نُرِیْدُ مِنۡکُمْ جَزَآءً وَلَا شُکُوْرًا ۵ إِنَّا نَخَافُ مِنۡ رَّبِّنَا یَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِیْرًا (الدہر ۷۶: ۷-۱۰) ’’وہ اپنی نذر پوری کرتے ہیں اور ایک ایسے دن سے ڈرتے ہیں جس کی آفت ہمہ گیر ہو گی۔ وہ ضروت مند ہونے کے باوجود، مسکین، یتیم اور قیدی کو کھلاتے ہیں۔ اس نعمت کے ساتھ کہ ہم تم کو صرف اللہ کی خوشنودی کی خاطرکھلاتے ہیں، نہ کہ تم سے کسی بدلے کے طالب ہیں، نہ کسی شکریہ کے۔ ہم اپنے رب کی طرف سے ایک سخت اکل کھرے دن کے ظہور سے ڈرتے ہیں۔‘‘