Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 93. Ad-Dhuhaa · Ayah 11

  1. وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ۠ع﴿11﴾

    1. وَاَمَّااور جو
    2. بِنِعْمَةِنعمت
    3. رَبِّكَاپنا رب
    4. فَحَدِّثْسو بیان کر
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اپنے پروردگار کی نعمت کا بیان کیجیو
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
لوگوں کو اللہ کی حکمت سے بہرہ مند کرو: ’وَأَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ‘۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس فضل و انعام کا حق بیان ہوا ہے جو اوپر ’وَوَجَدَکَ عَائِلاً فَأَغْنٰی‘ کے الفاظ میں بیان ہوا ہے۔ ہم اس کی وضاحت کرتے ہوئے اشارہ کر چکے ہیں کہ اس سے صرف وہ غنا مراد نہیں ہے جو حضور کو حضرت خدیجہ کے مال سے حاصل ہوا بلکہ اصلاً اس سے دین کی وہ حکمت اور شریعت کی وہ دولت مراد ہے جس کی شان قرآن میں یہ بیان ہوئی ہے کہ ’وَمَنْ یُؤْتَ الْحِکْمَۃَ فَقَدْ أُوۡتِیَ خَیْرًا کَثِیْرًا‘ (البقرہ ۲: ۲۶۹) (اور جس کو حکمت عطا ہوئی اس کو خیر کثیر کا خزانہ بخشا گیا)۔ یہاں لفظ ’فَحَدِّثْ‘ خاص طور پر نگاہ میں رکھیے۔ یہ مال کی نعمت کے لیے نہیں بلکہ حکمت کی نعمت ہی کے لیے موزوں ہے۔ فرمایا کہ جس حکمت کے خزانے سے تمہارے رب نے تم کو بہرہ ور کیا ہے اس کی تحدیث کرو یعنی جس طرح تمہارے رب نے تمہیں مفت بخشا ہے تم بھی اس کو مفت بانٹو، فیاضانہ بانٹو، ہر آنے جانے والے کے سامنے اس کا چرچا کرو اور ہر بزم و انجمن کو اس کے ذکر سے معمور کر دو۔