تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 93. Ad-Dhuhaa · Ayah 10
وَ اَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنْهَرْؕ﴿10﴾
- وَاَمَّا السَّآئِلَاور جو سوال کرنیوالا
- فَلَا تَنْهَرْتو نہ جھڑک
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جو سائل ہو اس کو نہ جھڑکیو ،
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
دوسرے انعام کا حق: ’وَأَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْھَرْ‘۔ یہ اس انعام کا حق بیان ہوا ہے جو اوپر ’وَوَجَدَکَ ضَالّاً فَہَدٰی‘ کے الفاظ میں بیان ہوا ہے۔ لفظ ’سائل‘ یہاں محدود معنی میں نہیں بلکہ وسیع معنی میں استعمال ہوا ہے۔ خواہ سائل اپنے پیٹ اور تن کی کسی ضرورت کے تحت سوال کرے یا اپنی کسی ذہنی و عقلی الجھن سے متعلق سوال کرے یا اپنے دین سے متعلق سوال کرے، غرض جس طرح کی بھی مدد و رہنمائی کا طالب ہو حتی الامکان اس کی مدد و رہنمائی کی جائے اور اگر اس کا موقع نہ ہو تو خوبصورتی کے ساتھ اس کے سامنے معذرت پیش کر دی جائے، اس کو جھڑکا اور ڈانٹا نہ جائے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ بات یاد رکھنا کہ ایک دور تم پر بھی ایسا گزرا ہے جب تم سراپا سوال تھے اور ان سوالوں نے تمہاری زندگی ضیق میں ڈال رکھی تھی بالآخر تمہارے رب نے تمہاری ہر خلش دور فرمائی اور تمہارے ہر سوال کا جواب دیا۔ اس کا حق یہ ہے کہ تم بھی سائلوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا، ان لوگوں کی روش نہ اختیار کرنا جن کا حال یہ ہے کہ خدا نے ان کو دے رکھا ہے تو مسکینوں اور سائلوں سے ترش روئی سے پیش آتے ہیں اور اگر ابھی کسی گردش میں خدا ان کو پکڑ لے تو کہیں گے کہ خدا نے مجھے ذلیل کر دیا، اس وقت ان کو یہ بات یاد نہیں آتی کہ انھوں نے خدا کے بندوں کو کس طرح ذلیل کیا ہے۔