تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 93. Ad-Dhuhaa · Ayah 3
مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰىؕ﴿3﴾
- مَانہیں
- وَدَّعَكَآپ کو چھوڑا
- رَبُّكَآپ کا رب
- وَمَا قَلٰىاور نہ بیزار ہوا
Translation · Tadabbur-e-Quran
کہ تیرے خداوند نے نہ تجھے چھوڑا اور نہ تجھ سے بیزار ہوا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
رنج اور راحت دونوں انسان کی تربیت کے لیے ہیں: یہ وہ اصل مدعا ہے جس کو مبرہن کرنے کے لیے اوپر کے آفاقی شواہد کی قسم کھائی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح اس دنیا میں سورج کی روشنی اور حرارت بھی ضروری ہے اور رات کی تاریکی اور سکون بھی اسی طرح انسان کی روحانی اور اخلاقی تربیت کے لیے عُسر اور یُسر، نرمی اور درشتی، فقر اور غنٰی کی آزمائشیں بھی ضروری ہیں۔ انہی کے ذریعے اللہ تعالیٰ، جیسا کہ سورۂ فجر میں وضاحت فرمائی ہے، اپنے بندے کے صبر یا شکر کا امتحان کرتا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ اس وقت اگر تم مخالفوں کی مخالفت، اعوان و انصار کی قلت اور اسباب و وسائل کی کمی سے دوچار ہو یا آسمانی و روحانی کمک کی جتنی ضرورت محسوس کر رہے ہو اتنی تمہیں نہیں پہنچ رہی ہے تو اس کے معنی ہرگز یہ نہیں ہیں کہ اب تمہارے رب نے تمہیں چھوڑ دیا ہے یا تم سے بیزار ہو گیا ہے بلکہ یہ تمہاری تربیت کے لیے تمہارا امتحان ہے تاکہ تم اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے اچھی طرح تیار ہو جاؤ۔
اس آیت کے اندر یہ سارا مضمون مضمر ہے جو اوپر کی آیات سے بھی واضح ہو رہا ہے اور آگے کی آیات اور اس کے بعد کی سورہ سے بھی، جیسا کہ آپ دیکھیں گے، واضح ہو گا لیکن بتقاضائے ایجاز مقسم علیہ کی حیثیت سے سب سے نمایاں تسلی کے مضمون کے اسی پہلو کو کیا گیا ہے جس کے آپ اس دور میں خاص طور پر محتاج تھے یعنی یہ اطمینان دلا دیا گیا کہ جن حالات سے اس وقت آپ دوچار ہیں اس کی وجہ آپ کے معاملہ سے اللہ تعالیٰ کی بے تعلقی یا ناخوشی نہیں بلکہ سنت الٰہی کے مطابق آپ کی تربیت ہے۔
یہ امر واضح رہے کہ مکی دور میں قریش کی مخالفت جب زیادہ شدت اختیار کر گئی تو اس سے آپ کو خاص پریشانی جو ہوئی وہ یہی ہوئی کہ مبادا ان لوگوں کی اس بیزاری میں آپ کی کسی کوتاہی یا بے تدبیری کو کوئی دخل ہے جو اللہ تعالیٰ کے عتاب کا سبب ہوئی جس کے باعث یہ حالات پیش آ رہے ہیں۔ آپ کا یہ احساس ظاہر ہے کہ ایک نہایت کمرشکن احساس تھا چنانچہ آگے والی سورہ میں اس کو کمر شکن بوجھ سے تعبیر فرمایا بھی گیا ہے: ’وَوَضَعْنَا عَنۡکَ وِزْرَکَ ۵ الَّذِیْ أَنۡقَضَ ظَہْرَکَ‘ (الم نشرح ۹۴: ۲-۳)
وحی کے لیے شدت انتظار کی اصلی وجہ: اس پریشانی میں قدرتی طور پر آپ کو سب سے زیادہ بے چینی کے ساتھ وحی الٰہی کا انتظار ہوتا اس لیے کہ یہی واحد چیز ہے جو تاریک حالات میں روشنی بھی دکھا سکتی ہے اور اسی سے آپ کو یہ اندازہ بھی ہوتا کہ آپ فریضۂ دعوت رب کے منشا کے مطابق انجام دے رہے ہیں یا اس میں کوئی کوتاہی یا بے تدبیری ہو رہی ہے۔ لیکن وحی کا معاملہ تمام تر اللہ تعالیٰ کی حکمت پر مبنی ہے۔ ضروری نہیں کہ حضور کو انتظار اور پریشانی ہو تو وحی نازل بھی ہو جائے۔ چنانچہ ان حالات میں وحی کے وقفہ سے آپ کی پریشانی فطری طور پر دوچند ہو جاتی۔ حضور کی ان پریشانیوں کا ذکر مکی سورتوں میں جگہ جگہ ہوا ہے اور ہم ان کی پوری وضاحت کرتے آ رہے ہیں۔ تفصیل مطلوب ہو تو سورۂ طٰہٰ اور سورۂ قیامہ کی تفسیر میں متعلق مباحث پر ایک نظر ڈال لیجیے۔
اس آیت میں آپ کو جو تسلی دی گئی ہے وہ اسی طرح کے حالات میں دی گئی ہے۔ ضروری نہیں کہ کفار میں سے کسی کے اس طعنہ کے جواب میں کہ ’’اس شخص کو اس کے رب نے چھوڑ دیا۔‘‘ یہ آیت اتری ہو۔ کفار یہ مانتے کب تھے کہ اللہ تعالیٰ سے آپ کا یا آپ کی دعوت کا کوئی خاص ربط ہے اور وہ آپ پر وحی بھیجتا ہے! وہ تو آپ کو کاہن اور شاعر کہتے تھے۔ پھر یہ کہ وحی کے آنے یا نہ آنے کا تجربہ صرف حضور کو ہوتا تھا، کفار کو کیا معلوم کہ وحی کا سلسلہ قائم ہے یا بند ہے؟ جہاں تک تبلیغ و دعوت کا تعلق ہے وہ آپ نے ایک دن کے لیے بھی کبھی بند نہیں کی کہ کفار کو یہ طعنہ دینے کا موقع ملے کہ اب یہ شخص اپنے منصب پر مامور نہیں رہا یا اس کے رب نے اس کو چھوڑ دیا۔