Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 93. Ad-Dhuhaa · Ayah 4

  1. وَ لَلْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰىؕ﴿4﴾

    1. وَلَلْاٰخِرَةُاور پچھلی حالت
    2. خَيْرٌبہتر
    3. لَّكَآپ کیلئے
    4. مِنَ الْاُوْلٰىپہلی سے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور بعد کا دور تیرے لئے پہلے سے بہتر ہو گا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
تسلی کے مضمون کی مزید وضاحت: یہاں ’اٰخِرَۃ‘ اور ’اُوْلٰی‘ کے الفاظ دنیا اور آخرت کے اصطلاحی مفہوم میں نہیں بلکہ عام مفہوم یعنی دعوت کے دور آخر اور دور اول یا اس کے حاضر و مستقبل کے مفہوم میں استعمال ہوئے ہیں۔ یہ اسی تسلی کے مضمون کی مزید وضاحت ہے کہ اس وقت جو حالات ہیں وہ بدل جائیں گے اور مستقبل ماضی و حاضر سے بہت بہتر ہو گا۔ اس مضمون کی بشارت خفی اور جلی دونوں طرح قرآن نے جگہ جگہ دی ہے اور قدیم صحیفوں میں بھی آنحضرت ﷺ سے متعلق جو پیشین گوئیاں وارد ہیں ان میں آپ کی دعوت کے آغاز کو رائی کے دانے کی تمثیل سے سمجھایا ہے جو ہوتا تو نہایت چھوٹا ہے لیکن جب اُگتا ہے تو اس کا پودا سب ترکاریوں سے بڑا ہو جاتا ہے یہاں تک کہ پرندے اس میں بسیرا لیتے ہیں۔ ایک جامع بشارت: لفظ ’خَیْرٌ‘ سے یہاں جو بشارت دی گئی ہے وہ ایک جامع بشارت ہے جس کے اندر دین کے غلبہ و تمکن، مکہ کی فتح، دشمنوں کی پامالی اور دین میں داخل ہونے والوں کی کثرت کے وہ سارے پہلو جمع ہو گئے ہیں جو سابق سورتوں میں بھی بیان ہوئے ہیں، آگے والی سورہ میں بھی ان کی طرف اشارہ ہے اور سورۂ نصر میں بھی ان کی وضاحت آئے گی۔