تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 93. Ad-Dhuhaa · Ayah 6
اَلَمْ یَجِدْكَ یَتِیْمًا فَاٰوٰى۪﴿6﴾
- اَلَمْکیا نہیں
- يَجِدْكَآپ کو پایا
- يَتِيْمًایتیم
- فَاٰوٰىپس ٹھکانہ دیا
Translation · Tadabbur-e-Quran
کیا اس نے تجھے یتیم پایا تو ٹھکانا نہ دیا !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
حضور کی زندگی کے بعض سبق آموز حالات کی طرف اشارہ: یہ اسی بات کو جو اوپر آیت ۴ میں ارشاد ہوئی کہ تمہارا مستقبل ماضی سے بہتر ہو گا، مؤکد کرنے کے لیے خود حضور ہی کی زندگی کے بعض سبق آموز حالات کی طرف توجہ دلائی کہ غور کرو تو تمہیں اپنی ہی زندگی اس حقیقت کی نہایت عمدہ تفسیر نظر آئے گی۔
سب سے پہلے آپ کی یتیمی کا حوالہ دیا۔ یتیمی اول تو خود ہی ایک بہت بڑی مصیبت ہے لیکن معاشرہ اگر اس حد تک بگڑا ہوا ہو جس کی تصویر پچھلی سورتوں میں کھینچی گئی ہے تو اس میں یتیم کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ چنانچہ فرمایا ہے:
’کَلَّا بَل لَّا تُکْرِمُوۡنَ الْیَتِیْمَ‘ (الفجر ۸۹: ۱۷)
(ہرگز نہیں، بلکہ تم یتیم کی کوئی عزت نہیں کرتے)
اسی طرح حضور ہی کے خاندان کے بعض افراد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:
’فَذٰلِکَ الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَ‘ (الماعون ۱۰۷: ۲)
(وہی ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے)۔
لیکن حضورؐ کے حال پر اللہ تعالیٰ کا یہ خاص فضل ہوا کہ باوجودیکہ آپ کے والد ماجد نے کوئی قابل ذکر ترکہ نہیں چھوڑا لیکن آپ کے دادا اور ان کے بعد آپ کے چچا نے آپ کی پرورش کی اور نہایت عزت اور شفقت کے ساتھ پرورش کی۔ عام حالات میں دادا کے دل میں یتیم پوتے کے لیے شفقت اور چچا کے دل میں یتیم بھتیجے کے لیے عزت و محبت کا پایا جانا کوئی نادر بات نہیں بلکہ انسانی فطرت کا ایک بدیہی تقاضا ہے لیکن ایک فاسد معاشرہ میں، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، یہ ایک نادر الوجود بات ہے اور یہ بغیر اس کے ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی یتیم پر اپنے جمال محبت کا وہ پرتو ڈال دے جو اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ڈال دیا کہ ان کی پرورش ان کے سب سے بڑے دشمن فرعون نے اپنے محل میں کی۔