Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 93. Ad-Dhuhaa · Ayah 7

  1. وَ وَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰى۪﴿7﴾

    1. وَاور
    2. وَجَدَكَآپ کو پایا
    3. ضَآلًّابیخبر
    4. فَهَدٰىتو ہدایت دی
Translation · Tadabbur-e-Quran
جویائے راہ پایا تو راہ نہ دکھائی !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’وَوَجَدَکَ ضَآلّاً فَہَدٰی‘۔ یہ اس روحانی انعام کا بیان ہے جو آپ پر بعد کے دور میں ہوا۔ ایک جویائے راہ کی سرگردانیاں اور خدا کی دست گیری: معلوم ہے آپ کو جو رسوم و روایات خاندان کے بزرگوں سے وراثت میں ملیں ان پر آپ کی سلیم فطرت ایک لمحہ کے لیے بھی مطمئن نہ ہو سکی اور دوسری کوئی ایسی روشنی تھی نہیں جو آپ کے لیے سرمایۂ تسکین بن سکتی۔ آسمانی مذاہب کے پیرو جو آپ کے گرد و پیش تھے ان کا حال البقرہ، آل عمران اور دوسری مدنی سورتوں سے واضح ہو چکا ہے کہ ان کے عقائد و اعمال اس قدر مسخ ہو چکے تھے کہ کوئی جویائے حقیقت ان سے کوئی رہنمائی حاصل نہیں کر سکتا تھا۔ اس صورت حال نے آپ کو ایک شدید قسم کی ذہنی کشمکش میں ڈال دیا تھا۔ آپ کی اسی کشمکش کو یہاں ’وَوَجَدَکَ ضَآلّاً‘ کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ’ضَآلّ‘ یہاں گمراہ کے معنی میں نہیں بلکہ جویائے راہ کے معنی میں ہے۔ حضرات انبیاء علیہم السلام بعثت سے پہلے بھی فطرت سلیم پر ہوتے ہیں۔ وہ زندگی کے ابتدائی دور میں بھی فطرت کی بدیہیات سے کبھی منحرف نہیں ہوتے لیکن فطرت صرف عقائد و اعمال کی موٹی موٹی باتوں ہی میں رہنمائی کر سکتی ہے۔ تمام عقائد اور ان کے سارے تضمنات و لوازم کی نہ وہ تشریح کر سکتی اور نہ تمام اعمال و اخلاق کی صحیح صحیح حد بندی اس کے بس میں ہے اس وجہ سے فطرت پر ہونے کے باوجود ایک شخص یہ جاننے کا محتاج ہی رہتا ہے کہ جس خدا کے وجود پر اس کا دل گواہی دے رہا ہے اس کی صفات اور ان صفات کے تقاضے اور مطالبے کیا ہیں؟ اس کے کیا حقوق بندے پر عائد ہوتے اور وہ کس طرح ادا کرنے ہیں؟ زندگی کی ایسی ضابطہ بندی کس طرح کی جائے کہ وہ پوری کی پوری، اپنے بعید ترین گوشوں میں بھی، خالق کی پسند کے مطابق ہو جائے؟ جب تک یہ سوالات حل نہ ہوں اس وقت تک نہ انسان کو حقیقی اطمینان حاصل ہو سکتا اور نہ رب کے ساتھ اس کا تعلق ہی استوار ہو سکتا۔ یہی سوالات ہیں جو پوری شدت کے ساتھ نبی ﷺ کے دل پر زندگی کے اس دور میں مستولی تھے جس کی طرف ’وَوَجَدَکَ ضَآلّاً‘ کے الفاظ اشارہ کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ حالت نہ ضلالت کی ہے اور نہ اس کو ہدایت سے تعبیر کر سکتے بلکہ صحیح الفاظ میں یہ جستجوئے راہ کی سرگردانی ہے۔ گویا ایک شخص چوراہے پر کھڑا ہو اور فیصلہ نہ کر پا رہا ہو کہ کس سمت میں قدم بڑھائے۔ بعثت سے پہلے غار حراء کی تنہائیوں میں آپ انہی گتھیوں کو سلجھانے میں گم رہے۔ بعثت سے پہلے دین حنیفی کے پیروؤں کا حال: بعثت سے پہلے عرب میں دین حنیفی کے پیروؤں کا حال کتابوں میں اس طرح بیان ہوا ہے کہ ان میں سے بعض افراد ایسی شدید الجھن میں مبتلا تھے کہ وہ بیت اللہ سے ٹیک لگا کر حرم میں بیٹھ جاتے اور نہایت حسرت کے ساتھ کہتے کہ ’’اے رب! ہم نہیں جانتے کہ تیری عبادت کس طرح کریں ورنہ اسی طرح کرتے۔‘‘ یہی حال اس وقت تک نبی ﷺ کا بھی رہا ہو گا جب تک آپ ایمان کی حقیقت اور کتاب سے روشناس نہیں ہوئے۔ چنانچہ قرآن میں اسی حالت کی طرف یوں اشارہ فرمایا ہے: ’وَکَذٰلِکَ أَوْحَیْنَا إِلَیْکَ رُوۡحًا مِّنْ أَمْرِنَا مَا کُنۡتَ تَدْرِیْ مَا الْکِتَابُ وَلَا الْإِیْمَانُ وَلٰکِنۡ جَعَلْنٰہُ نُوۡرًا نَّہْدِیْ بِہٖ مَنْ نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَا‘ (الشوریٰ ۴۲: ۵۲) (اور اسی طرح ہم نے تمہاری طرف ایک روح وحی کی جو ہمارے امر میں سے ہے، نہ تم کتاب سے آشنا تھے اور نہ ایمان سے لیکن ہم نے اس وحی کو روشنی بنایا جس سے ہم اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں راہ دکھاتے ہیں)۔ اسی حالت کو سورۂ یوسف میں ’غفلت‘ کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے: ’وَإِنۡ کُنۡتَ مِنۡ قَبْلِہٖ لَمِنَ الْغَافِلِیْنَ‘ (یوسف ۱۲: ۳) (اور بے شک اس سے پہلے تم اس سے بے خبروں میں سے تھے)۔