Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 95. At-Tin · Ayah 1

  1. وَ التِّیْنِ وَ الزَّیْتُوْنِۙ﴿1﴾

    1. وَالتِّيْنِقسم ہے انجیر کی
    2. وَالزَّيْتُوْنِاور زیتون کی
Translation · Tadabbur-e-Quran
شاہد ہیں جبل تین اور کوہ زیتون
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’تین‘ سے مراد جبل تین ہے: ’و‘ یہاں قسم کے لیے ہے اور قسم سے متعلق ہم برابر وضاحت کرتے آ رہے ہیں کہ قرآن میں اشیاء اور مقامات کی جو قسمیں آئی ہیں وہ تمام تر اس دعوے پر دلیل کی حیثیت سے آئی ہیں جو قسم کے بعد مذکور ہوا ہے۔ یہاں ’تین‘ سے مشہور پھل انجیر مراد نہیں ہے، جیسا کہ ہمارے مفسرین نے سمجھا ہے، بلکہ جبل تین ہے جو انجیر کی پیداوار کے لیے مشہور رہا ہے۔ مولانا فراہی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر سورۂ تین میں اس کی جو تحقیق بیان فرمائی ہے اس کا کچھ ضروری حصہ ہم یہاں نقل کرتے ہیں۔ مولانا فرماتے ہیں: ’’’تین‘ ایک خاص پہاڑ کا نام ہے۔ عربی میں انجیر کو تین کہتے ہیں۔ چونکہ یہاں انجیر کی پیداوار بکثرت تھی اس وجہ سے یہ تین ہی کے نام سے مشہور ہو گیا۔ اہل عرب اس نام سے اس کو جانتے تھے۔ نام رکھنے کا یہ طریقہ عربوں میں معروف رہا ہے۔ جس چیز کی پیداوار جہاں زیادہ ہوتی بسا اوقات اسی کے نام سے اس مقام کو موسوم کر دیتے۔ ’غضٰی‘، ’شجرۃ‘، ’نخلۃ‘ وغیرہ مقاموں کے نام اسی طرح پڑے۔....... مشہور شاعر نابغہ ذبیانی نے اپنے شعروں میں ’تین‘ کا ذکر ایک مقام کی حیثیت سے کیا ہے: صھب الظلال اتین التین عن عرض یزجین غیما قلیلًا ماءہ شبما ’’اس میں اس نے ’تین‘ سے شمال کے ایک پہاڑ کو مراد لیا ہے۔ بعضوں نے کہا ہے کہ یہ حلوان اور ہمدان کے درمیان ہے۔‘‘ آگے مولانا اس کے بارے میں بعض قیاسات کی تردید کرتے ہوئے اپنی قطعی رائے ان الفاظ میں ظاہر فرماتے ہیں: ’’اس سے معلوم ہوا کہ تین سے مراد یا تو کوہ جودی ہے یا اسی کے قریب کا کوئی دوسرا پہاڑ۔ تورات میں ہے کہ طوفان نوح کے بعد بنی آدم یہیں سے ادھر ادھر متفرق ہوئے اور قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ کوہ جودی کے پاس پیش آیا۔‘‘ ’زَیْتُوْن‘ سے مراد کوہ زیتون ہے: ’زَیْتُوْن‘ سے بھی زیتون کا درخت یا اس کا پھل مراد نہیں ہے، جیسا کہ ہمارے مفسرین نے گمان کیا ہے۔ بلکہ جبل زیتون ہے جو حضرت مسیح کی دعوت اور عبادت کے مرکز کی حیثیت سے معروف ہے اور انجیل میں جس کا ذکر باربار آیا ہے۔ مولانا اس کے متعلق اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں: ’’ہمارے نزدیک یہ بھی مقام کا نام ہے۔ چونکہ زیتون کی پیداوار یہاں زیادہ تھی اس وجہ سے عربوں کے اس طریق تسمیہ کے مطابق، جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا، یہ زیتون کے نام سے موسوم ہو گیا۔ یہ یقیناً وہی پہاڑ ہے جس کا انجیل میں اکثر ذکر آتا ہے اور جس پر حضرت مسیح علیہ السلام عبادت اور دعا کے لیے جایا کرتے تھے۔ لوقا باب ۲۱: ۳۷ میں اس کا ذکر یوں آیا ہے: ’اور دن میں وہ ہیکل میں تعلیم دیتا تھا اور رات میں نکل جاتا تھا اور اس پہاڑ پر شب بسر کرتا تھا جس کا نام کوہ زیتون ہے۔‘ سلف کے اقوال سے بھی اس رائے کی تائید ہوتی ہے۔ حضرت ابن عباس اور حضرت کعب سے روایت ہے کہ زیتون سے مراد بیت المقدس ہے اور قتادہ کہتے ہیں کہ زیتون وہ پہاڑ ہے جہاں بیت المقدس واقع ہے۔‘‘‘‘ جبل تین کی شہادت جزا پر جبل ’تین‘ کی شہادت جزا پر: سب سے پہلے جبل تین کی قسم کھائی گئی ہے اور دلائل کی روشنی میں اوپر وضاحت ہو چکی ہے کہ اس سے مراد کوہ جودی ہے۔ اس پہاڑ پر اللہ تعالیٰ کے قانون مکافات کے دو اہم واقعات پیش آئے ہیں اور ان کی تفصیل قدیم صحیفوں میں موجود ہے۔ ایک حضرت آدم علیہ السلام کا واقعہ اور دوسرا حضرت نوح علیہ السلام اور ان کی قوم کا واقعہ۔ ان میں سے پہلے واقعہ کا ذکر مولانا فراہی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر سورۂ تین میں یوں کیا ہے: ’’تین وہ پہلا مقام ہے جہاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کے لیے جزا و سزا کا پہلا واقعہ پیش آیا۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب آدم علیہ السلام نے خدا کا عہد بھلا دیا اور اپنے حاسد کے فریب میں آ کر ممنوعہ درخت کا پھل کھا بیٹھے تو ان کو اور ان کی بیوی کو جزا کے قانون سے دوچار ہونا پڑا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو جو سرفرازی بخشی تھی اس سے وہ محروم کر دیے گئے اور جنت کی خلعت ان سے چھین لی گئی۔۔۔ ......اور یہ واقعہ ان کی پوری نسل کے لیے ایک یادگار واقعہ قرار پایا۔ چنانچہ قرآن میں متعدد جگہ اسی پہلو سے اس کو یاد دلایا گیا ہے، مثلاً فرمایا ہے: ’یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ لَا یَفْتِنَنَّکُمُ الشَّیْطٰنُ کَمَآ اَخْرَجَ اَبَوَیْکُمْ مِّنَ الْجَنَّۃِ یَنْزِعُ عَنْھُمَا لِبَاسَھُمَا‘ (الاعراف ۷: ۲۷) (اے آدم کے بیٹو! کہیں شیطان تم کو ورغلا نہ دے جس طرح اس نے تمہارے ماں باپ کو جنت سے نکلوا چھوڑا، جنت کے خلعت سے محروم کر کے)۔‘‘ ’’یہاں وہ بات بھی یاد رکھیے جو تورات میں مذکور ہے کہ حضرات آدم و حوا (علیہما السلام) نے جنت کی خلعت سے محروم ہونے کے بعد جس درخت کے پتوں سے اپنے تن ڈھانکے وہ انجیر کا درخت تھا۔‘‘ ’’اس واقعہ کے بعد قرآن میں تصریح ہے کہ حضرات آدم و حوا (علیہما السلام) نے توبہ کی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی اور ان پر ہدایت نازل کرنے اور اس ہدایت کی پیروی کرنے والوں کو اجر دینے کا وعدہ فرمایا۔ پہلے عہد کے بعد یہ اللہ تعالیٰ کا دوسرا عہد تھا جو اس نے حضرت آدم سے کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جبل تین کا واقعہ اپنے اندر دو مختلف پہلو رکھتا ہے۔ اس دن اللہ تعالیٰ نے ایک طرف حضرت آدم سے ایک نعمت چھینی اور دوسری طرف ایک عظیم نعمت ان کو بخشی۔ چھینی اس وجہ سے کہ انھوں نے اللہ کے عہد کو فراموش کر دیا تھا اور بخشی اس وجہ سے کہ غفلت کے بعد وہ متنبہ ہو گئے اور انھوں نے توبہ کی۔‘‘ جبل تین کے پاس جزا کا دوسرا واقعہ حضرت نوح علیہ السلام کے عہد میں پیش آیا اس کی تفصیل مولانا رحمۃ اللہ علیہ یوں پیش کرتے ہیں: ’’ان کے زمانے میں اللہ تعالیٰ نے اسی پہاڑ کے پاس ظالموں کو تباہ کیا اور نیکو کاروں کو طوفان سے نجات دی اور برکت بخشی۔ قرآن مجید میں ہے: وَقِیْلَ یٰٓاَرْضُ ابْلَعِیْ مَآءَ کِ وَیٰسَمَآءُ اَقْلِعِیْ وَغِیْضَ الْمَآءُ وَقُضِیَ الْاَمْرُ وَاسْتَوَتْ عَلَی الْجُوْدِیِّ وَقِیْلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ.(ہود ۱۱: ۴۴) (اور حکم دیا گیا، اے زمین اپنا پانی جذب کر لے اور اے آسمان! تھم جا۔ پانی اتر گیا اور کام تمام کر دیا گیا اور کشتی کوہ جودی پر ٹک گئی اور اعلان کر دیا گیا کہ ظالموں کے لیے ہلاکی ہو۔) آگے حضرت نوح کی دعا کے بعد ان کو یہ ہدایت ہوئی: قِیْلَ یٰنُوْحُ اھْبِطْ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَبَرَکٰتٍ عَلَیْکَ وَعَلٰٓی اُمَمٍ مِّمَّنْ مَّعَکَ وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُھُمْ ثُمَّ یَمَسُّھُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ(ہود ۱۱: ۴۸) (کہا گیا، اے نوح، اترو، ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ اپنے اوپر اور ان قوموں پر جو تمہارے ساتھ ہیں اور تمہارے سوا اور قومیں بھی ہوں گی جن کو ہم کچھ دن بہرہ مند ہونے کا موقع دیں گے۔ پھر ان کو ہمارا دردناک عذاب پکڑے گا۔) ........اس سے معلوم ہوا کہ جبل تین اللہ تعالیٰ کے قانون مکافات کے ظہور کا ایک یادگار مقام ہے۔‘‘ کوہ زیتون کی شہادت جزا پر کوہ زیتون پر جزا کا جو واقعہ پیش آیا ہے اس کی تفصیل مولانا یوں پیش کرتے ہیں: ’’اسی پہاڑ پر خدا نے اپنی شریعت یہود سے چھینی اور وہ سلسلۂ ابراہیمی کی دوسری شاخ کے حوالہ کر دی۔ یہ واقعہ حضرت مسیح کی زندگی کے آخری دور سے تعلق رکھتا ہے۔ انجیلوں میں اس کی جو تفصیلات موجود ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک روز آپ شب بھر جاگ کر اپنے رب سے دعا و مناجات کرتے رہے کہ ان کی قوم (یہود) کی کشتی غرق ہونے سے بچ جائے لیکن تقدیر کا فیصلہ اٹل تھا۔ بالآخر وہ قوم کے مستقبل سے مایوس ہو گئے۔ بالخصوص جب آپ کو معلوم ہوا کہ یہود آپ کے قتل کے درپے ہیں تو اس بات سے آپ کو اور بھی غم ہوا کیونکہ آپ کو معلوم تھا کہ اگر یہود نے اس طرح کا کوئی اقدام کیا تو ان پر سنت الٰہی کے مطابق اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو جائے گی اور وہ اپنی امانت ان سے چھین کر دوسروں کے حوالے کر دے گا۔ متی باب ۲۱: ۴۲ میں ہے: ’یسوع نے ان سے کہا کہ تم نے کتاب مقدس میں کبھی نہیں پڑھا کہ جس پتھر کو معماروں نے رد کیا وہی کونے کے سرے کا پتھر ہو گیا۔ یہ خداوند کی طرف سے ہوا اور ہماری نظر میں عجیب ہے؟‘‘‘ یہ عبارت زبور ۱۱۸: ۲۲-۲۳ کی ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام نے اس کا حوالہ دے کر اپنی طرف سے اس کی شرح یوں فرمائی: ’’اس لیے میں تم سے کہتا ہوں کہ خدا کی بادشاہی تم سے لے لی جائے گی اور اس قوم کو جو اس کے پھل لائے دے دی جائے گی اور جو اس پتھر پر گرے گا وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا، لیکن جس پر وہ گرے گا اس کو پیس ڈالے گا۔ یہود سے یہ آسمانی بادشاہت چھینے جانے کا واقعہ کوہ زیتون پر پیش آیا۔ انجیلوں میں اس ماجرے کی ساری تفصیلات موجود ہیں۔‘‘