تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 95. At-Tin · Ayah 2
وَ طُوْرِ سِیْنِیْنَۙ﴿2﴾
- وَطُوْرِاور طور
- سِيْنِيْنَسینا کی
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور طور سینین
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
طور سینا: ان دونوں کا مقام ہونا تو بالکل واضح ہے لیکن طور سینین میں لفظ سینا، جو سینین ہو گیا ہے، اس کی تحقیق مولانا کے نزدیک یہ ہے:
’’قرآن میں ایک جگہ ’طُوْرِ سَیْنَآءَ‘ (المومنون ۲۳: ۲۰) بھی آیا ہے یعنی ایک جگہ یہ مؤنث کی صورت میں ہے اور دوسری جگہ جع سالم کی شکل میں۔ جیسے عربی میں ’جمعًا‘ اور ’اَجْمَعُوْنَ‘ مستعمل ہیں۔ تورات میں کہیں ’سینا‘ آیا ہے اور کہیں ’سینیم‘ اور معلوم ہے کہ عبرانی میں ’یم‘ جمع کی علامت ہے۔‘‘۱
طور سینین کی شہادت جزا پر
طور سینین کی شہادت کی تفصیل کرتے ہوئے مولانا رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
’’طور سینین کی شہادت جزا پر بالکل واضح ہے۔ یہی مقام ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے ایک مظلوم و مقہور قوم پر اپنی عنایت مبذول فرمائی اور اس کے صبر کے صلہ میں دشمنوں کے پنجہ سے اس کو نجات دے کر اس کا سر اونچا کیا اور پھر اس کو ایک ایسی شریعت عطا فرمائی جو منکروں اور دشمنوں کے لیے یکسر تازیانۂ عذاب تھی۔ یہ واقعہ مظلوموں پر لطف و نوازش اور ظالموں پر قہر و غضب کی نہایت واضح مثال ہے۔ قرآن مجید میں حضرت موسیٰ اور قوم فرعون کے واقعات جہاں بیان ہوئے ہیں اس حقیقت کی طرف اشارات موجود ہیں۔ مثلاً:
وَتَمَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ الْحُسْنٰی عَلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآءِیْلَ بِمَا صَبَرُوْا وَدَمَّرْنَا مَا کَانَ یَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُہٗ وَمَا کَانُوْا یَعْرِشُوْنَ.(الاعراف ۷: ۱۳۷)
‘‘اور تمہارے رب کا اچھا وعدہ بنی اسرائیل کے لیے پورا ہوا۔ بوجہ اس کے کہ انھوں نے صبر کیا، اور ہم نے تباہ کر ڈالیں وہ عمارتیں جو فرعون اور اس کی قوم بناتے رہے تھے اور وہ بیلیں بھی جو وہ ٹٹیوں پر چڑھاتے رہے تھے۔‘‘‘‘
مولانا نے یہ فصل وضاحت سے لکھی ہے لیکن یہ واقعات معلوم ہیں اس وجہ سے ہم نے صرف مختصر اقتباس پر کفایت کی ہے۔ جن کو تفصیل مطلوب ہو وہ اصل کتاب کی مراجعت کریں۔
_____
۱ ہم اس کتاب میں واضح کر چکے ہیں کہ عربی میں بعض مرتبہ کسی چیز کی جمع اس کی وسعت اطراف کو ظاہر کرنے کے لیے بھی آتی ہے۔ معلوم ہوتا ہے عبرانی میں بھی یہ قاعدہ موجود ہے۔