Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 96. Al-Alaq · Ayah 3

  1. اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُۙ﴿3﴾

    1. اِقْرَاْپڑھئیے
    2. وَرَبُّكَاور آپ کا رب
    3. الْاَكْرَمُبڑاکریم
Translation · Tadabbur-e-Quran
پڑھ اور تیرا رب بڑا ہی کریم ہے ،
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اہل عرب پر عظیم احسان: یہ ’اِقْرَاْ‘ سابق ’اِقْرَاْ‘ سے بدل کے طور پر آیا ہے اور یہ اسی حکم کی تاکید ہے جو اوپر دیا گیا ہے البتہ اس میں اظہار احسان کا پہلو بھی نمایاں ہے کہ قریش اللہ تعالیٰ کے اس فضل عظیم کی قدر کریں کہ اس نے ان کی ہدایت کے لیے تعلیم بالقلم کا اہتمام فرمایا۔ یہ امر واضح رہے کہ اس سے پہلے بنی اسماعیل کے پاس حضرت ابراہیم و حضرت اسمٰعیل کی تعلیمات سے متعلق اگر کچھ روایات تھیں تو وہ زبانی روایات کی شکل میں تھیں اور امتداد زمانہ سے ان کی شکل بھی متغیر ہو چکی تھی۔ دوسرے انبیاء کی تعلیمات بھی زبانی ہی تھیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو احکام عشرہ تو ضرور لکھ کر دیے گئے لیکن موجودہ تورات کی حیثیت بس قلم بند کی ہوئی روایات کی ہے۔ اس کے اندر یہ امتیاز ناممکن ہے کہ کون سی بات اللہ تعالیٰ کے لفظوں میں ہے اور کون سی بات مجہول راویوں کے الفاظ میں لیکن قرآن کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ اہتمام فرمایا کہ اس کا ہر لفظ اول تو براہ راست نطق الٰہی ہے، پھر اس کو زبانی روایات پر نہیں چھوڑا گیا بلکہ اس کو عین اللہ تعالیٰ کے لفظوں میں تحریری طور پر محفوظ کیا گیا اور یہ کام، جیسا کہ سورۂ قلم اور سورۂ قیامہ کی تفسیروں میں وضاحت ہو چکی ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنی ہدایت کے تحت کرایا تا کہ کسی حرف میں سرمو کوئی تغیر نہ ہونے پائے۔