تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 96. Al-Alaq · Ayah 2
خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍۚ﴿2﴾
- خَلَقَپیدا کیا
- الْاِنْسَانَانسان
- مِنْسے
- عَلَقٍجما ہوا
Translation · Tadabbur-e-Quran
پیدا کیا انسان کو خون کے تھکے سے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یہ عام کے بعد خاص کا ذکر ہے۔ پہلی آیت میں تمام کائنات کے پیدا کیے جانے کا ذکر ہوا۔ اب یہ خاص اہتمام کے ساتھ انسان کے پیدا کیے جانے کی طرف اشارہ ہے۔
انسان کی خلقت کے ابتدائی مراحل کی یاددہانی سے مقصود: ’عَلَقٌ‘ خون کی پھٹکی یا تھکے کو کہتے ہیں۔ انسان کی خلقت کے ابتدائی مراحل کی یاددہانی قرآن میں جگہ جگہ فرمائی گئی ہے۔ مثلاً سورۂ حج، سورۂ مومنون، سورۂ سجدہ، سورۂ قیامہ اور سورۂ دہر وغیرہ میں۔ ہم ہر جگہ تمام اہم الفاظ کی بھی وضاحت کرتے آ رہے ہیں اور اس خاص پہلو کی طرف بھی ہم نے توجہ دلا دی ہے جو اس یاددہانی سے پیش نظر ہے۔ اس سے مقصود بالعموم تین حقیقتوں کی طرف توجہ دلانا ہوتا ہے:
o ایک یہ کہ جس خالق کی قدرت و حکمت کا یہ حال ہے کہ وہ خون کی ایک حقیر پھٹکی کو عاقل و مدرک اور سمیع و بصیر انسان بنا کر کھڑا کر دیتی ہے کیا اس کے لیے اس کو دوبارہ پیدا کر دینا مشکل ہو جائے گا۔
o دوسری یہ کہ انسان کی تخلیق میں خالق کی جو قدرتیں اور حکمتیں نمایاں ہیں وہ دلیل ہیں کہ یہ عبث اور بے غایت نہیں پیدا کیا گیا ہے بلکہ اس کے لیے ایک روز حساب لازماً آنا ہے اور یہ اپنے اعمال کی جزا یا سزا ضرور پائے گا۔
o تیسری یہ کہ جس انسان کی پیدائش اتنے حقیر اور ذلیل عنصر سے ہوئی ہے اس کے لیے یہ زیبا نہیں ہے کہ وہ اپنی پاکی و پاک دامنی یا اپنے حسب و نسب کی حکایت زیادہ بڑھائے اور غرور و استکبار کا مظاہرہ کرے۔
قرآن کے بعض مقامات میں بیک وقت ان تمام حقائق کی طرف توجہ دلائی گئی ہے لیکن بعض جگہ ان میں سے ایک یا دو مدنظر ہیں۔ یہاں موقع کلام اشارہ کر رہا ہے کہ ان میں سے اوپر کی دو حقیقتوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ مقصود یہ بتانا ہے کہ خالق کائنات کا کلام خاص اس کے نام سے لوگوں کو پہنچاؤ اور ان کو یاددہانی کرو کہ جس خالق نے انسان کو خون کی پھٹکی سے وجود بخشا ہے وہ قادر ہے کہ اس کو دوبارہ پیدا کر کے اس کے اعمال کا محاسبہ کرے۔