تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 96. Al-Alaq · Ayah 5
عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْؕ﴿5﴾
- عَلَّمَ الْاِنْسَانَسکھایا انسان کو
- مَا لَمْ يَعْلَمْجو وہ نہ جانتا تھا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس نے سکھایا انسان کو وہ کچھ جو وہ نہیں جانتا تھا۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یہ اسی انعام و احسان کا ایک اور پہلو ہے کہ صرف تعلیم بالقلم ہی کا احسان امیوں پر نہیں کیا بلکہ مزید احسان یہ بھی کیا کہ ان کو وہ باتیں بتائیں اور سکھائیں جو وہ نہیں جانتے تھے۔ لفظ ’انسان‘ اگرچہ عام ہے لیکن قرآن کے پہلے مخاطب چونکہ امی عرب ہی تھے اس وجہ سے یہاں اصلاً وہی مراد ہیں۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل خاص سے ان کو جاہلیت کی تاریکی سے نکالنے کے لیے ان پر اپنی یہ کامل ہدایت نازل فرمائی ہے۔ ان پر حق ہے کہ وہ اس کی قدر کریں۔ سورۂ جمعہ میں یہی مضمون یوں آیا ہے:
ہُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْأُمِّیِّیْنَ رَسُوۡلاً مِّنْہُمْ یَتْلُوۡا عَلَیْہِمْ آیَاتِہِ وَیُزَکِّیْہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ وَإِنۡ کَانُوۡا مِنۡ قَبْلُ لَفِیْ ضَلَالٍ مُّبِیْنٍ (الجمعہ ۶۲: ۲)
’’وہی ہے جس نے اٹھایا امیوں میں ایک رسول انہی میں سے وہ ان کو سناتا ہے اس کی آیتیں اور ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو سکھاتا ہے کتاب اور حکمت درآنحالیکہ وہ اس سے پہلے نہایت کھلی ہوئی گمراہی میں تھے۔‘‘
یہی مضمون، الفاظ کے معمولی تغیر کے ساتھ، البقرہ: ۱۵۱، البقرہ: ۱۹۸ اور آل عمران: ۱۶۴ میں بھی گزر چکا ہے اور ہم بقدر کفایت اس کی وضاحت کر چکے ہیں۔
اس آیت میں جہاں اظہار احسان ہے وہیں اس کے اندر قریش کے لیے ایک تنبیہ بھی ہے کہ اگر انھوں نے اپنے رب کی اس سب سے بڑی نعمت کی قدر نہ کی تو سونچ لیں کہ ان کی اس ناسپاسی اور اس طغیان کا نتیجہ ان کے سامنے کس شکل میں آ سکتا ہے!