Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 96. Al-Alaq · Ayah 9

  1. اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یَنْهٰىۙ﴿9﴾

    1. اَرَءَيْتَکیا آپ نے دیکھا
    2. الَّذِيْوہ جو
    3. يَنْهٰىروکتا ہے
Translation · Tadabbur-e-Quran
ذرا دیکھو تو اس کو جو روکتا ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قریش کے گنڈوں کے طغیان کی ایک مثال: یہ ان کے اس طغیان کی ایک مثال بیان ہوئی ہے جس کا ذکر اوپر ہوا۔ فرمایا کہ بھلا دیکھو تو اس کو جو ایک بندے کو روکتا ہے جب کہ وہ نماز پڑھتا ہے! یہ قریش کے ان اشقیاء کی طرف اشارہ ہے جو آنحضرت ﷺ کو بھی اور دوسرے مسلمانوں کو بھی نماز سے روکتے تھے۔ بندے پر اس کے رب کا اولین حق اس کی بندگی ہے اور بندگی میں اولین درجہ نماز کا ہے اس وجہ سے جو بندہ نماز پڑھ رہا ہے وہ اپنے رب کا سب سے بڑا حق ادا کر رہا ہے اور سزاوار ہے کہ سب اس کے اس کام کو عزت و احترام کی نگاہوں سے دیکھیں اور اس کے عمل کو قابل تقلید جانیں۔ اگر کوئی اس چیز سے روکنے کی جسارت کرتا ہے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ وہ بندے کو سب سے بڑے فرض اور خدا کے سب سے بڑے حق سے روک رہا ہے۔ ’اَرَءَ یْتَ‘ کے اسلوب پر ہم جگہ جگہ لکھ چکے ہیں کہ یہ اس وقت لاتے ہیں کہ جب کسی کی نہایت نامناسب حرکت پر لوگوں کو توجہ دلانی یا اس پر نکیر کرنی ہو۔ جس طرح ہم اپنی زبان میں کہتے ہیں ’بھلا دیکھا تم نے اس کو، کیا تم نے اس کا حال دیکھا، ذرا اس کو تو دیکھو‘۔ ’اَلَّذِیْ‘ سے ضروری نہیں کہ کوئی ایک معین شخص ہی مراد ہو بلکہ یہ اس طرح کی بے ہودہ حرکت کرنے والوں کو ممثل کر دینے کے لیے بھی ہو سکتا ہے۔ اس کی وضاحت ہم اس کے محل میں کر چکے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کو نماز سے روکنے والا ابوجہل ہی نہیں تھا بلکہ دوسرے گنڈے بھی تھے اور یہ گنڈے صرف حضور ہی کی نمازوں میں مزاحم نہیں ہوتے تھے بلکہ اللہ کے دوسرے بندوں کے ساتھ بھی وہ اسی طرح کی بدتمیزیاں کرتے تھے۔