Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 99. Az-Zalzala · Ayah 6

  1. یَوْمَئِذٍ یَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًا١ۙ۬ لِّیُرَوْا اَعْمَالَهُمْؕ﴿6﴾

    1. يَوْمَئِذٍاس دن
    2. يَّصْدُرُباہر نکلیں گے
    3. النَّاسُلوگ
    4. اَشْتَاتًاگروہ در گروہ
    5. لِّيُرَوْاتاکہ دکھائے
    6. اَعْمَالَهُمْان کے عمل
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس دن لوگ الگ الگ نکلیں گہ کہ ان کو ان کے اعمال دکھائے جائیں۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اس دن ہر شخص کو اپنی جواب دہی خود کرنی ہو گی: ’اَشْتَاتٌ‘ کے معنی متفرق، اکیلے اکیلے، تنہا تنہا کے ہیں۔ یعنی اس دن لوگ قبروں سے اس طرح نکلیں گے کہ کسی کے ساتھ نہ اس کے اہل خاندان ہوں گے، نہ اعزہ و اقرباء، نہ اس کا جتھا ہو گا، نہ خدم و حشم، نہ املاک و جائداد، نہ اعوان و انصار اور نہ مزعومہ شرکاء و شفعاء بلکہ ہر ایک اپنے اعمال کی جواب دہی کے لیے اپنے رب کے حضور تنہا حاضر ہو گا۔ یہ مضمون قرآن کے دوسرے مقامات میں نہایت وضاحت سے بیان ہوا ہے۔ مثلاً سورۂ مریم میں فرمایا ہے: ’وَکُلُّھُمْ اٰتِیۡہِ یٰوْمَ الْقِیٰمَۃِ فَرْدًا‘ (مریم ۱۹: ۹۵) (اور ان میں سے ہر ایک اپنے رب کے سامنے حاضر ہو گا تنہا)۔ سورۂ انعام میں فرمایا ہے: ’وَلَقَدْ جِئۡتُمُوْنَا فُرَادٰی کَمَا خَلَقْنٰکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ‘ (الانعام ۶: ۹۴) (اور تم آئے ہمارے پاس تنہا تنہا جس طرح ہم نے تم کو پہلی بار پیدا کیا)۔ ’لِّیُرَوْا اَعْمَالَہُمْ‘۔ یہ اس حاضری کی غایت بیان ہوئی ہے کہ یہ اس لیے ہو گی کہ ان کو ان کے اعمال دکھا دیے جائیں کہ دنیا کی زندگی میں انھوں نے کیا کارگزاری انجام دی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس دکھا دینے سے مقصود اس کا نتیجہ یعنی اس کا مزہ چکھو، یعنی فعل نتیجۂ فعل کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔