تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 99. Az-Zalzala · Ayah 7
فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ﴿7﴾
- فَمَنْپس جس نے
- يَّعْمَلْکی ہوگی
- مِثْقَالَبرابر
- ذَرَّةٍایک ذرہ
- خَيْرًانیکی
- يَّرَهٗاس کو دیکھے گا
Translation · Tadabbur-e-Quran
پس جس نے ذرہ برابر بھی نیکی کی ہوگی وہ بھی اس کو دیکھے گا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یہ اس اجمال کی تفصیل بیان ہوئی ہے۔ فرمایا کہ جس نے ذرہ کے برابر بھی نیکی کی ہو گی وہ بھی اس کے سامنے آئے گی اور جس نے ذرہ کے برابر برائی کی ہو گی وہ بھی اس کے سامنے آئے گی۔
یہاں یہ امر ملحوظ رہے کہ ہر مومن و کافر کی ہر چھوٹی بڑی نیکی یا بدی اس کے سامنے آئے گی تو ضرور لیکن اس قاعدے کے مطابق آئے گی جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کے دوسرے مقامات میں بیان فرمایا ہے یعنی ایک مومن یہ دیکھے گا کہ اس سے نیکیوں کے ساتھ فلاں فلاں غلطیاں بھی صادر ہوئی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کی فلاں فلاں نیکیوں کو ان کا کفارہ بنا دیا ہے۔ اسی طرح ایک کافر یہ دیکھے گا کہ اس نے بدیوں کے ساتھ کچھ نیک کام بھی کیے ہیں لیکن اس کے وہ نیک کام اس کے فلاں برے اعمال و عقائد کے سبب سے حبط ہو گئے، اس وجہ سے وہ ان کے صلہ سے محروم رہا۔
اس قاعدہ پر پرکھے جانے کے بعد نجات پانے والوں اور ہلاک ہونے والوں کے لیے جو ضابطہ مقرر ہوا ہے وہ سورۂ قارعہ میں یوں بیان ہوا ہے:
فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہٗ فَھُوَ فِیْ عِیْشَۃٍ رَّاضِیَۃٍ وَاَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُہٗ فَاُمُّہٗ ھَاوِیَۃٌ.(القارعہ ۱۰۱: ۶-۹)
’’پس جس کے پلڑے بھاری ہوں گے وہ تو دل پسند عیش میں ہو گا اور جس کے پلڑے ہلکے ہوں گے تو اس کا ٹھکانا دوزخ کا کھڈ ہو گا۔‘‘