Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 10. Yunus · Ayah 34

Tafseer
  1. قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ﴿34﴾

    1. قُلْآپ پوچھیں
    2. هَلْکیا
    3. مِنْسے
    4. شُرَكَآئِكُمْتمہارے شریک
    5. مَّنْجو
    6. يَّبْدَؤُاپہلی بار پیدا کرے
    7. الْخَلْقَمخلوق
    8. ثُمَّ يُعِيْدُهٗپھر اسے لوٹائے
    9. قُلِآپ کہ دیں
    10. اللّٰهُاللہ
    11. يَبْدَؤُاپہلی بار پیدا کرتا ہے
    12. الْخَلْقَمخلوق
    13. ثُمَّپھر
    14. يُعِيْدُهٗاسے لوٹائے گا
    15. فَاَنّٰىپس کدھر
    16. تُؤْفَكُوْنَپلٹے جاتے ہو تم
Translation · Tafheem-ul-Quran
اِن سے پوچھو، تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں میں کوئی ہے جو تخلیق کی ابتداء بھی کرتا ہو اور پھر اس کا اعادہ بھی کرے؟۔۔۔۔ کہو وہ صرف اللہ ہے جو تخلیق کی ابتداء کرتا ہے اور اس کا اعادہ بھی،41 پھر تم یہ کس اُلٹی راہ پر چلائے جا رہے ہو ؟42
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة یُوْنُس 41 تخلیق کی ابتدا کے متعلق تو مشرکین مانتے ہی تھے کہ یہ صرف اللہ کا کام ہے، ان کے شریکوں میں سے کسی کا اس کام میں کوئی حصہ نہیں۔ رہا تخلیق کا اعادہ تو ظاہر ہے کہ جو ابتداء پیدا کرنے والا ہے وہی اس عمل پیدائش کا اعادہ بھی کرسکتا ہے، مگر جو ابتداء ہی پیدا کرنے پر قادر نہ ہو وہ کس طرح اعادہ پیدائش پر قادر ہوسکتا ہے۔ یہ بات اگرچہ صریحا ایک معقول بات ہے، اور خود مشرکین کے دل بھی اندر سے اس کی گواہی دیتے تھے کہ بات بالکل ٹھکانے کی ہے، لیکن انہیں اس کا اقرار کرنے میں اس بنا پر تامل تھا کہ اسے مان لینے کے بعد انکار آخرت مشکل ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اوپر کے سوالات پر تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ خود کہیں گے کہ یہ کام اللہ کے ہیں، مگر یہاں اس کے بجائے نبی ﷺ سے ارشاد ہوتا ہے کہ تم ڈنکے کی چوٹ پر کہو کہ یہ ابتدائے خلق اور اعادہ خلق کا کام بھی اللہ ہی کا ہے۔ سورة یُوْنُس 42 یعنی جب تمہاری ابتدا کا سرا بھی اللہ کے ہاتھ میں ہے اور انتہا کا سرا بھی اسی کے ہاتھ میں، تو خود اپنے خیر خواہ بن کر ذرا سوچو کہ آخر تمہیں یہ کیا باور کرایا جا رہا ہے کہ ان دونوں سروں کے بیچ میں اللہ کے سوا کسی اور کو تمہاری بندگیوں اور نیاز مندیوں کا حق پہنچ گیا ہے۔