تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 10. Yunus · Ayah 45
Tafseerوَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ كَاَنْ لَّمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنَ النَّهَارِ یَتَعَارَفُوْنَ بَیْنَهُمْ١ؕ قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ﴿45﴾
- وَيَوْمَاور جس دن
- يَحْشُرُھُمْجمع کرے گا انہیں
- كَاَنْگویا
- لَّمْ يَلْبَثُوْٓاوہ نہ رہے تھے
- اِلَّامگر
- سَاعَةًایک گھڑی
- مِّنَ النَّهَارِدن سے (کی)
- يَتَعَارَفُوْنَوہ پہچانیں گے
- بَيْنَھُمْآپس میں
- قَدْ خَسِرَالبتہ خسارہ میں رہے
- الَّذِيْنَوہ لوگ
- كَذَّبُوْاانہوں نے جھٹلایا
- بِلِقَآءِ اللّٰهِاللہ سے ملنے کو
- وَمَا كَانُوْاوہ نہ تھے
- مُهْتَدِيْنَہدایت پانے والے
Translation · Tafheem-ul-Quran
(آج یہ دُنیا کی زندگی میں مست ہیں) اور جس روز اللہ اِن کو اکٹھا کرے گا تو (یہی دُنیا کی زندگی اِنہیں ایسی محسُوس ہوگی) گویا یہ محض ایک گھڑی بھر آپس میں جان پہچان کرنے کو ٹھہرے تھے۔53 (اُس وقت تحقیق ہو جائے گا کہ) فی الواقع سخت گھاٹے میں رہے وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی ملاقات کو جھُٹلایا54 اور ہر گز وہ راہِ راست پر نہ تھے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة یُوْنُس 53
یعنی جب ایک طرف آخرت کی بےپایاں زندگی ان کے سامنے ہوگی اور دوسری طرف یہ پلٹ کر اپنی دنیا کی زندگی پر نگاہ ڈالیں گے تو انہیں مستقبل کے مقابلہ میں اپنا یہ ماضی نہایت حقیر محسوس ہوگا۔ اس وقت ان کو اندازہ ہوگا کہ انہوں نے اپنی سابقہ زندگی میں تھوڑی سی لذتوں اور منفعتوں کی خاطر اپنے اس ابدی مستقبل کو خراب کر کے کتنی بڑی حماقت کا ارتکاب کیا ہے۔
سورة یُوْنُس 54
یعنی اس بات کو کہ ایک دن اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے۔