Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 10. Yunus · Ayah 87

  1. وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰى وَ اَخِیْهِ اَنْ تَبَوَّاٰ لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُیُوْتًا وَّ اجْعَلُوْا بُیُوْتَكُمْ قِبْلَةً وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ﴿87﴾

    1. وَاَوْحَيْنَآاور ہم نے وحی بھیجی
    2. اِلٰىطرف
    3. مُوْسٰىموسیٰ
    4. وَاَخِيْهِاور اس کا بھائی
    5. اَنْ تَبَوَّاٰکہ گھر بناؤ تم
    6. لِقَوْمِكُمَااپنی قوم کے لیے
    7. بِمِصْرَمصر میں
    8. بُيُوْتًاگھر
    9. وَّاجْعَلُوْااور بناؤ
    10. بُيُوْتَكُمْاپنے گھر
    11. قِبْلَةًقبلہ رو
    12. وَّاَقِيْمُوااور قائم کرو
    13. الصَّلٰوةَنماز
    14. وَبَشِّرِاور خوشخبری دو
    15. الْمُؤْمِنِيْنَمومن (جمع)
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور ہم نے موسیٰ ؑ اور اس کے بھائی کو اشارہ کیا کہ ”مصر میں چند مکان اپنی قوم کے لیے مہیّا کرو اور اپنے ان مکانوں کو قبلہ ٹھہرا لواور نماز قائم کرو 84 اور اہلِ ایمان کو بشارت دے دو۔“85
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة یُوْنُس 84 اس آیت کے مفہوم میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ اس کے الفاظ پر اور اس ماحول پر جس میں یہ الفاظ ارشاد فرمائے گئے تھے غور کرنے سے میں یہ سمجھا ہوں کہ غالبا مصر میں حکومت کے تشدد سے اور خود بنی اسرائیل کے اپنے ضعف ایمانی کی وجہ سے اسرائیلی اور مصری مسلمانوں کے ہاں نماز باجماعت کا نظام ختم ہوچکا تھا۔ اور یہ ان کے شیرازے کے بکھرنے اور ان کی دینی روح پر موت طاری ہوجانے کا ایک بہت بڑا سبب تھا۔ اس لیے حضرت موسیٰ ؑ کو حکم دیا گیا کہ اس نظام کو از سر نو قائم کریں اور مصر میں چند مکان اس غرض کے لیے تعمیر یا تجویز کرلیں کہ وہاں اجتماعی نماز ادا کی جایا کرے۔ کیونکہ ایک بگڑی ہوئی اور بکھری ہوئی مسلمان قوم میں دینی روح کو پھر سے زندہ کرنے اور اس کی منتشر طاقت کو از سر نو مجتمع کرنے کے لیے اسلامی طرز پر جو کوشش بھی کی جائے گی اس کا پہلا قدم لازما یہی ہوگا کہ اس میں نماز باجماعت کا نظام قائم کیا جائے۔ ان مکانوں کو قبلہ ٹھیرانے کا مفہوم میرے نزدیک یہ ہے کہ ان مکانوں کو ساری قوم کے لیے مرکز اور مرجع ٹھیرایا جائے، اور اس کے بعد ہی نماز قائم کرو کہنے کا مطلب یہ ہے کہ متفرق طور پر اپنی اپنی جگہ نماز پڑھ لینے کے بجائے لوگ ان مقرر مقامات پر جمع ہو کر نماز پڑھا کریں، کیونکہ قرآن کی اصطلاح میں اقامت صلوۃ جس چیز کا نام ہے اس کے مفہوم میں لازما نماز باجماعت بھی شامل ہے۔ سورة یُوْنُس 85 یعنی اہل ایمان پر مایوسی علیہ السلام، مرعوبیت اور پژمردگی کی جو کیفیت اس وقت چھائی ہوئی ہے اسے دور کرو۔ انہیں پرامید بناؤ اور ان کی ہمت بندھاؤ اور ان کا حوصلہ بڑھاؤ، بشارت دینے کے لفظ میں یہ سب معنی شامل ہیں۔