Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 10. Yunus · Ayah 88

  1. وَ قَالَ مُوْسٰى رَبَّنَاۤ اِنَّكَ اٰتَیْتَ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاَهٗ زِیْنَةً وَّ اَمْوَالًا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ رَبَّنَا لِیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِكَ١ۚ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰۤى اَمْوَالِهِمْ وَ اشْدُدْ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْا حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ﴿88﴾

    1. وَقَالَاور کہا
    2. مُوْسٰىموسیٰ
    3. رَبَّنَآاے ہمارے رب
    4. اِنَّكَبیشک تو
    5. اٰتَيْتَتونے دیا
    6. فِرْعَوْنَفرعون
    7. وَمَلَاَهٗاور اسکے سردار
    8. زِينَةًزینت
    9. وَّاَمْوَالًااور مال (جمع)
    10. فِيمیں
    11. الْحَيٰوةِ الدُّنْيَادنیا کی زندگی
    12. رَبَّنَااے ہمارے رب
    13. لِيُضِلُّوْاکہ وہ گمراہ کریں
    14. عَنْسے
    15. سَبِيْلِكَتیرا راستہ
    16. رَبَّنَااے ہمارے رب
    17. اطْمِسْتو مٹا دے
    18. عَلٰٓيپر
    19. اَمْوَالِهِمْان کے مال
    20. وَاشْدُدْاور مہر لگا دے
    21. عَلٰي قُلُوْبِهِمْان کے دلوں پر
    22. فَلَا يُؤْمِنُوْاکہ وہ نہ ایمان لائیں
    23. حَتّٰىیہانتک کہ
    24. يَرَوُاوہ دیکھ لیں
    25. الْعَذَابَعذاب
    26. الْاَلِيْمَدردناک
Translation · Tafheem-ul-Quran
موسیٰؑ نے دعا 86کی”اے ہمارے ربّ ، تُو نے فرعون اور اُس کے سرداروں کو دُنیا کی زندگی میں زینت87 اور اموال88 سے نواز رکھا ہے۔ اے ربّ ، کیا یہ اِس لیے ہے کہ وہ لوگوں کو تیری راہ سے بھٹکائیں؟ اے ربّ ، ان کے مال غارت کر دے اور ان کے دلوں پر ایسی مُہر کر دے کہ ایمان نہ لائیں جب تک دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔“89
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة یُوْنُس 86 اوپر کی آیات حضرت موسیٰ ؑ کی دعوت کے ابتدائی دور سے تعلق رکھتی ہیں۔ اور یہ دعا زمانہ قیام مصر کے بالکل آخری زمانے کی ہے۔ بیچ میں کئی برس کا طویل فاصلہ ہے جس کی تفصیلات کو یہاں نظر انداز کردیا گیا ہے۔ دوسرے مقامات پر قرآن میں اس بیچ کے دور کا بھی مفصل حال بیان ہوا ہے۔ سورة یُوْنُس 87 یعنی ٹھاٹھ، شان و شوکت اور تمدن وتہذیب کی وہ خوش نمائی جس کی وجہ سے دنیا ان پر اور ان کے طور طریقوں پر ریجھتی ہے اور ہر شخص کا دل چاہتا ہے کہ ویسا ہی بن جائے جیسے وہ ہیں۔ سورة یُوْنُس 88 یعنی ذرائع اور وسائل جن کی فراوانی کی وجہ سے وہ اپنی تدبیروں کو عمل میں لانے کے لیے ہر طرح کی آسانیاں رکھتے ہیں اور جن کے فقدان کی وجہ سے اہل حق اپنی تدبیروں کو عمل میں لانے سے عاجز رہ جاتے ہیں۔ سورة یُوْنُس 89 جیسا کہ ابھی ہم بتا چکے ہیں، یہ دعا حضرت موسیٰ ؑ نے زمانہ قیام مصر کے بالکل آخری زمانے میں کی تھی، اور اس وقت کی تھی جب پے در پے نشانات دیکھ لینے اور دین کی حجت پوری ہوجانے کے بعد بھی فرعون اور اس کے اعان سلطنت حق کی دشمنی پر انتہائی ہٹ دھرمی کے ساتھ جمے رہے۔ ایسے موقع پر پیغمبر جو بددعا کرتا ہے وہ ٹھیک ٹھیک وہی ہوتی ہے جو کفر پر اصرار کرنے والوں کے بارے میں خود اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے، یعنی یہ کہ پھر انہیں ایمان کی توفیق نہ بخشی جائے۔