تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 11. Hud · Ayah 123
وَ لِلّٰهِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ یُرْجَعُ الْاَمْرُ كُلُّهٗ فَاعْبُدْهُ وَ تَوَكَّلْ عَلَیْهِ١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۠ع﴿123﴾
- وَلِلّٰهِاور اللہ کے پاس
- غَيْبُغیب
- السَّمٰوٰتِآسمانوں
- وَالْاَرْضِاور زمین
- وَاِلَيْهِاور اسی کی طرف
- يُرْجَعُباز گشت
- الْاَمْرُکام
- كُلُّهٗتمام
- فَاعْبُدْهُسو اس کی عبادت کرو
- وَتَوَكَّلْاور بھروسہ کرو
- عَلَيْهِاس پر
- وَمَااور نہیں
- رَبُّكَتمہارا رب
- بِغَافِلٍغافل (بےخبر)
- عَمَّااس سے جو
- تَعْمَلُوْنَتم کرتے ہو
Translation · Tafheem-ul-Quran
آسمانوں اور زمین میں جو کچھ چھُپا ہوا ہے سب اللہ کے قبضہء قدرت میں ہے اور سارا معاملہ اسی کی طرف رُجوع کیا جاتا ہے۔ پس اے نبی ؐ ، تُو اُسی کی بندگی کر اور اُسی پر بھروسا رکھ،جو کچھ تم لوگ کر رہے ہو تیرا ربّ اس سے بے خبر نہیں ہے۔117
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة هُوْد 117
یعنی کفر واسلام کی اس کشمکش کے دونوں فریق جو کچھ کر رہے ہیں وہ سب اللہ کی نگاہ میں ہے۔ اللہ کی سلطنت کوئی اندھیر نگر چوپٹ راجہ کی مصداق نہیں ہے کہ اس میں خواہ کچھ ہی ہوتا رہے شہ بیخبر کو اس سے کچھ سروکار نہ ہو۔ یہاں حکمت اور بردباری کی بنا پر دیر تو ضرور ہے مگر اندھیر نہیں ہے۔ جو لوگ اصلاح کی کوشش کر رہے وہ یقین رکھیں کہ ان کی محنتیں ضائع نہ ہونگی۔ اور وہ لوگ بھی جو فساد کرنے اور اسے برپا رکھنے میں لگے ہوئے ہیں، جو اصلاح کی سعی کرنے والوں پر ظلم وستم توڑ رہے ہیں، اور جنہوں نے اپنا سارا زور اس کوشش میں لگا رکھا ہے کہ اصلاح کا یہ کام کسی طرح چل نہ سکے، انہیں خبردار رہنا چاہیے کہ ان کے یہ سارے کرتوت اللہ کے علم میں ہیں اور ان کی پاداش انہیں ضرور بھگتنی پڑے گی۔