Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 11. Hud · Ayah 37

Tafseer
  1. وَ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ﴿37﴾

    1. وَاصْنَعِاور تو بنا
    2. الْفُلْكَکشتی
    3. بِاَعْيُنِنَاہمارے سامنے
    4. وَوَحْيِنَااور ہمارے حکم سے
    5. وَلَا تُخَاطِبْنِيْاور نہ بات کرنا مجھ سے
    6. فِيمیں
    7. الَّذِيْنَ ظَلَمُوْاجن لوگوں نے ظلم کیا (ظالم)
    8. اِنَّهُمْبیشک وہ
    9. مُّغْرَقُوْنَڈوبنے والے
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور ہماری نگرانی میں ہماری وحی کے مطابق ایک کشتی بنانی شروع کر دو۔ اور دیکھو، جن لوگوں نے ظلم کیا ہے اُن کے حق میں مجھ سے کوئی سفارش نہ کرنا، یہ سارے کے سارے اب ڈوبنے والے ہیں۔40
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة هُوْد 40 اس سے معلوم ہوا کہ جب نبی کا پیغام کسی قوم کو پہنچ جائے تو اسے صرف اس وقت تک مہلت ملتی ہے جب تک اس میں کچھ بھلے آدمیوں کے نکل آنے کا امکان باقی ہو۔ مگر جب اس کے صالح اجزاء سب نکل چکتے ہیں اور وہ صرف فاسد عناصر ہی کا مجموعہ رہ جاتی ہے تو اللہ اس قوم کو پھر کوئی مہلت نہیں دیتا اور اس کی رحمت کا تقاضا یہی ہوتا ہے کہ سڑے ہوئے پھلوں کے اس ٹوکرے کو دور پھینک دیا جائے تاکہ وہ اچھے پھلوں کو بھی خراب نہ کر دے۔ پھر اس پر رحم کھانا ساری دنیا کے ساتھ اور آنے والی نسلوں کے ساتھ بےرحمی ہے۔
Tafheem-ul-Quran - 11 : 37