Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 11. Hud · Ayah 5

  1. اَلَاۤ اِنَّهُمْ یَثْنُوْنَ صُدُوْرَهُمْ لِیَسْتَخْفُوْا مِنْهُ١ؕ اَلَا حِیْنَ یَسْتَغْشُوْنَ ثِیَابَهُمْ١ۙ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ١ۚ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ﴿5﴾

    1. اَلَآیاد رکھو
    2. اِنَّھُمْبیشک وہ
    3. يَثْنُوْنَدوہرے کرتے ہیں
    4. صُدُوْرَھُمْاپنے سینے
    5. لِيَسْتَخْفُوْاتاکہ چھپالیں
    6. مِنْهُاس سے
    7. اَلَایاد رکھو
    8. حِيْنَجب
    9. يَسْتَغْشُوْنَپہنتے ہیں
    10. ثِيَابَھُمْاپنے کپڑے
    11. يَعْلَمُوہ جانتا ہے
    12. مَا يُسِرُّوْنَجو وہ چھپاتے ہیں
    13. وَمَا يُعْلِنُوْنَاور جو وہ ظاہر کرتے ہیں
    14. اِنَّهٗبیشک وہ
    15. عَلِيْمٌجاننے والا
    16. بِذَاتِ الصُّدُوْرِدلوں کے بھید
Translation · Tafheem-ul-Quran
دیکھو! یہ لوگ اپنے سینوں کو موڑتے ہیں تاکہ اُس سے چھُپ جائیں۔5 خبردار! جب کہ کپڑوں سے اپنے آپ کو ڈھانپتے ہیں ، اللہ ان کے چھُپے کو بھی جانتا ہےاور کُھلے کو بھی ، وہ تو اُن بھیدوں سے بھی واقف ہے جو سینوں میں ہیں۔
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة هُوْد 5 مکے میں جب نبی ﷺ کی دعوت کا چرچا ہوا تو بہت سے لوگ وہاں ایسے تھے جو مخالفت میں تو کچھ بہت زیادہ سرگرم نہ تھے مگر آپ ﷺ کی دعوت سے سخت بیزار تھے۔ ان لوگوں کا رویہ یہ تھا کہ آپ ﷺ سے کتراتے تھے، آپ ﷺ کسی بات کو سننے کے لیے تیار نہ تھے، کہیں آپ ﷺ کو بیٹھے دیکھتے تو الٹے پاؤں پھرجاتے، دور سے آپ کو آتے دیکھ لیتے تو رخ بدل دیتے یا کپڑے کی اوٹ میں منہ چھپا لیتے، تاکہ آمنا سامنا نہ ہوجائے اور آپ ﷺ انہیں مخاطب کر کے کچھ اپنی باتیں نہ کہنے لگیں۔ اسی قسم کے لوگوں کی طرف یہاں اشارہ کیا ہے کہ یہ لوگ حق کا سامنا کرنے سے گھبراتے ہیں اور شطر مرغ کی طرح منہ چھپا کر سمجھتے ہیں کہ وہ حقیقت ہی غائب ہوگئی جس سے انہوں نے منہ چھپایا ہے۔ حالانکہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے اور وہ یہ بھی دیکھ رہی ہے کہ یہ بیوقوف اس سے بچنے کے لیے منہ چھپائے بیٹھے ہیں۔