تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 11. Hud · Ayah 69
وَ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى قَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَآءَ بِعِجْلٍ حَنِیْذٍ﴿69﴾
- وَلَقَدْ جَآءَتْاور البتہ آئے
- رُسُلُنَآہمارے فرشتے
- اِبْرٰهِيْمَابراہیم
- بِالْبُشْرٰيخوشخبری لے کر
- قَالُوْاوہ بولے
- سَلٰمًاسلام
- قَالَاس نے کہا
- سَلٰمٌسلام
- فَمَا لَبِثَپھر اس نے دیر نہ کی
- اَنْکہ
- جَآءَ بِعِجْلٍایک بچھڑا لے آیا
- حَنِيْذٍبھنا ہوا
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور دیکھو، ابراہیم ؑ کے پاس ہمارے فرشتے خوشخبری لیے ہوئے پہنچے۔ کہا ، تم پر سلام ہو۔ ابراہیم ؑ نے جواب دیا ، تم پر بھی سلام ہو۔ پھر کچھ دیر نہ گزری کہ ابراہیم ؑ ایک بُھنا ہوا بچھڑا (ان کی ضیافت کے لیے) لے آیا۔75
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة هُوْد 75
اس سے معلوم ہوا کہ فرشتے حضرت ابراہیم ؑ کے ہاں انسانی صورت میں پہنچے تھے اور ابتداء انہوں نے اپنا تعارف نہیں کرایا تھا۔ اس لیے حضرت ابراہیم ؑ نے خیال کیا کہ یہ کوئی اجنبی مہمان ہیں اور ان کے آتے ہی فورا ان کی ضیافت کا انتظام فرمایا۔