Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 11. Hud · Ayah 72

  1. قَالَتْ یٰوَیْلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَ اَنَا عَجُوْزٌ وَّ هٰذَا بَعْلِیْ شَیْخًا١ؕ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عَجِیْبٌ﴿72﴾

    1. قَالَتْوہ بولی
    2. يٰوَيْلَتٰٓىاے خرابی (اے ہے)
    3. ءَاَلِدُکیا میرے بچہ ہوگا
    4. وَاَنَاحالانکہ میں
    5. عَجُوْزٌبڑھیا
    6. وَّھٰذَااور یہ
    7. بَعْلِيْمیرا خاوند
    8. شَيْخًابوڑھا
    9. اِنَّبیشک
    10. ھٰذَایہ
    11. لَشَيْءٌایک چیز (بات)
    12. عَجِيْبٌعجیب
Translation · Tafheem-ul-Quran
وہ بولی ”ہا ئے میری کم بختی!80 کیا اب میرے ہاں اولاد ہوگی جبکہ میں بڑھیا پُھونس ہو گئی اور یہ میرے میاں بھی بُوڑھے ہو چکے؟ 81یہ تو بڑے عجیب بات ہے۔“
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة هُوْد 80 اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ حضرت سارہ ؓ فی الواقع اس پر خوش ہونے کے بجائے الٹی اس کو کم بختی سمجھتی تھیں۔ بلکہ دراصل یہ اس قسم کے الفاظ میں سے ہے جو عورتیں بالعموم تعجب کے مواقع پر بولا کرتی ہیں اور جن سے لغوی معنی مراد نہیں ہوتے بلکہ محض اظہار تعجب مقصود ہوتا ہے۔ سورة هُوْد 81 بائیبل سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کی عمر اس وقت 100 برس اور حضرت سارہ ؓ کی عمر 90 برس کی تھی۔