Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 12. Yusuf · Ayah 104

  1. وَ مَا تَسْئَلُهُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠ع﴿104﴾

    1. وَمَا تَسْئَلُهُمْاور تم نہیں مانگتے ان سے
    2. عَلَيْهِاس پر
    3. مِنْ اَجْرٍکوئی اجر
    4. اِنْ هُوَیہ نہیں
    5. اِلَّامگر
    6. ذِكْرٌنصیحت
    7. لِّلْعٰلَمِيْنَسارے جہانوں کے لیے
Translation · Tafheem-ul-Quran
حالانکہ تم اس خدمت پر ان سے کوئی اُجرت بھی نہیں مانگتے ہو۔ یہ تو ایک نصیحت ہے جو دنیا والوں کے لیے عام ہے۔ 73
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
73۔ اوپر کی تنبیہ کے بعد یہ دوسری لطیف تر تنبیہ ہے جس میں ملامت کا پہلو کم اور فہمائش کا پہلو زیادہ ہے، اس ارشاد کا خطاب بھی بظاہر نبی ﷺ سے ہے مگر اصل مخاطب کفار کا مجمع ہے اور اس کو یہ سمجھانا مقصود ہے کہ اللہ کے بندو غور کرو، تمہاری یہ ہٹ دھرمی کس قدر بےجا ہے، اگھر پیغمبر نے اپنے کسی ذاتی مفاد کے لیے دعوت و تبلیغ کا یہ کام جاری کیا ہوتا یا اس نے اپنی ذات کے لیے کچھ بھی چاہا ہوتا تو بیشک تمہارے لیے یہ کہنے کا موقع تھا کہ ہم اس مطلبی آدمی کی بات کیوں مانی، مگر تم دیکھ رہے ہو کہ یہ شخص بےغرض ہے، تمہاری اور دنیا بھر کی بھلائی کے لیے نصیحت کر رہا ہے اور اس میں اس کا اپنا کوئی مفاد پوشیدہ نہیں ہے، پھر اس کا مقابلہ اس ہٹ دھرمی سے کرنے میں آخر کیا معقولیت ہے ؟ جو انسان سب کے بھلے کے لیے ایک بات بےغرضی کے ساتھ پیش کرے اس سے کسی کو خواہ مخواہ ضد کیوں ہو ؟ کھلے دل سے اس کی بات سنو، دل کو لگتی ہو تو مانو، نہ لگتی ہو نہ مانو۔