تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 12. Yusuf · Ayah 105
وَ كَاَیِّنْ مِّنْ اٰیَةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ یَمُرُّوْنَ عَلَیْهَا وَ هُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ﴿105﴾
- وَكَاَيِّنْاور کتنی ہی
- مِّنْ اٰيَةٍنشانیاں
- فِي السَّمٰوٰتِآسمانوں میں
- وَالْاَرْضِاور زمین
- يَمُرُّوْنَوہ گزرتے ہیں
- عَلَيْهَاان پر
- وَهُمْلیکن وہ
- عَنْهَااس سے
- مُعْرِضُوْنَمنہ پھیرنے والے
Translation · Tafheem-ul-Quran
زمین74 اور آسمانوں میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سےیہ لوگ گزرتے ہیں اور ذرا توجّہ نہیں کرتے۔ 75
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
74۔ اوپرے کے گیارہ رکوعوں میں حضرت یوسف کا قصہ ختم ہوگیا، اگر وحی الہی کا مقصد محض قصہ گوئی ہوتا تو اسی جگہ تقریر ختم ہوجانی چاہیے تھی، مگر یہاں تو قصہ کسی مقصد کی خاطر کہا جاتا ہے، اور اس مقصد کی تبلیغ کے لیے جو موقع بھی مل جائے اس سے فائدہ اٹھانے میں دریغ نہیں کیا جاتا، اب چونکہ لوگوں نے خود نبی کو بلایا تھا اور قصہ سننے کے لیے کان متوجہ تھے اس لیے ان کے مطلب کی بات ختم کرتے ہی چند جملے اپنے مطلب کے بھی کہہ دیے گئے اور غایت درجہ اختصار کے ساتھ ان چند جملوں ہی میں نصیحت اور دعوت کا سارا مضمون سمیٹ دیا گیا۔
75۔ اس سے مقصد لوگوں کو ان کی غفلت پر متنبہ کرنا ہے، زمین اور آسمان کی ہر چیز بجائے خود محض ایک چیز ہی نہیں ہے بلکہ ایک نشانی بھی ہے جو حقیقت کی طرف اشارہ کر رہی ہے، جو لوگ ان چیزوں کو محض چیز ہونے کی حیثیت سے دیکھتے ہیں، وہ انسان کا سا دیکھنا نہیں بلکہ جانوروں کا سا دیکھنا دیکھتے ہیں، درخت کو درخت اور پہاڑ کو پہاڑ اور پانی کو پانی تو جانور بھی دیکھتا ہے اور اپنی اپنی ضرورت کے لحاظ سے ہر جانور ان چیزوں کا مصرف بھی جانتا ہے، مگر جس مقصد کے لیے انسان کو حواس کے ساتھ سوچنے والا دماغ بھی دیا گیا ہے، وہ صرف اسی حد تک نہیں ہے کہ آدمی ان چیزوں کو دیکھے اور ان کا مصرف اور استعمال معلوم کرے، بلکہ اصل مقصد یہ ہے کہ آدمی حقیقت کی جستجو کرے اور ان نشانیوں کے ذریعہ سے اس کا سراغ لگائے، اسی معاملہ میں اکثر انسان غفلت برت رہے ہیں، اور یہی غفلت ہے جس نے ان کو گمراہی میں ڈال رکھا ہے، اگر دلوں پر یہ قفل نہ چڑھ لیا گیا ہوتا تو انبیاء کی بات سمجھنا اور ان کی رہنمائی سے فائدہ اٹھانا لوگوں کے لیے اس قدر مشکل نہ ہوجاتا۔