Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 12. Yusuf · Ayah 107

  1. اَفَاَمِنُوْۤا اَنْ تَاْتِیَهُمْ غَاشِیَةٌ مِّنْ عَذَابِ اللّٰهِ اَوْ تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ﴿107﴾

    1. اَفَاَمِنُوْٓاپس کیا وہ بےخوف ہوگئے
    2. اَنْ تَاْتِيَهُمْکہ ان پر آئے
    3. غَاشِيَةٌچھا جانیوالی ( آفت)
    4. مِّنْسے
    5. عَذَابِ اللّٰهِاللہ کا عذاب
    6. اَوْیا
    7. تَاْتِيَهُمُان پر آجائے
    8. السَّاعَةُگھڑی (قیامت)
    9. بَغْتَةًاچانک
    10. وَّهُمْاور وہ
    11. لَا يَشْعُرُوْنَانہیں خبر نہ ہو
Translation · Tafheem-ul-Quran
کیا یہ مطمئن ہیں کہ خدا کے عذاب کی کوئی بلا انہیں دبوچ نہ لے گی یا بے خبری میں قیامت کی گھڑی اچانک ان پر نہ آجائے گی؟77
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
77۔ اس سے مقصود لوگوں کو چونکانا ہے کہ فرصت زندگی کو دراز سمجھ کر اور حال کے امن کو دائم خیال کر کے فکر مآل کو کسی آنے والے وقت پر نہ ٹالو، کسی انسان کے پاس بھی اس امر کے لیے کوئی ضمانت نہیں ہے کہ اس کی مہلت حیات فلاں وقت تک یقینا باقی رہے گی، کوئی نہیں جانتا کہ کب اچانک اس کی گرفتاری ہوجاتی ہے اور کہاں سے کس حال میں وہ پکڑ بلایا جاتا ہے، تمہارا شب و روز کا تجربہ ہے کہ پردہ مستقبل ایک لمحہ پہلے بھی خبر نہیں دیتا کہ اس کے اندر تمہارے لیے کیا چھپا ہوا ہے، لہذا کچھ فکر کرنی ہے تو ابھی کو لر زندگی کی جس راہ پر چلے جارہے ہو اس میں آگے بڑھنے سے پہلے ذرا ٹھہر کر سوچ لو کہ کیا یہ راستہ ٹھیک ہے ؟ اس کے درست ہونے کے لیے کوئی واقعی حجت موجود ہے ؟ اس کے راہ راست ہونے کی کوئی دلیل آثات کائنات سے مل رہی ہے ؟ اس پر چلنے کے جو نتائج تمہارے ابنائے نوع پہلے دیکھ چکے ہیں اور جو نتائج اب تمہارے تمدن میں رونما ہورہے ہیں وہ یہی تصدیق کرتے ہیں کہ تم ٹھیک جارہے ہو۔