تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 12. Yusuf · Ayah 22
Tafseerوَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗۤ اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ﴿22﴾
- وَلَمَّااور جب
- بَلَغَپہنچ گیا
- اَشُدَّهٗٓاپنی قوت
- اٰتَيْنٰهُہم نے اسے عطا کیا
- حُكْمًاحکم
- وَّعِلْمًااور علم
- وَكَذٰلِكَاور اسی طرح
- نَجْزِيہم جزا دیتے ہیں
- الْمُحْسِنِيْنَنیکی کرنے والے
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور جب وہ اپنی پُوری جوانی کو پہنچا تو ہم نے اُسے قوتِ فیصلہ اور علم عطا کیا،20 اِس طرح ہم نیک لوگوں کو جزا دیتے ہیں
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة یُوْسُف 20
قرآن کی زبان میں ان الفاظ سے مراد بالعموم ”نبوت عطا کرنا“ ہوتا ہے۔ ”حکم“ کے معنی قوت فیصلہ کے بھی ہیں اور اقتدار کے بھی۔ پس اللہ کی طرف سے کسی بندے کو حکم عطا کیے جانے کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے انسانی زندگی کے معاملات میں فیصلہ کرنے کی اہلیت بھی عطا کی اور اختیارات بھی تفویض فرمائے۔ رہا ”علم“ تو اس سے مراد وہ خاص علم حقیقت ہے جو انبیاء کو وحی کے ذریعہ سے براہ راست دیا جاتا ہے۔