تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 12. Yusuf · Ayah 23
Tafseerوَ رَاوَدَتْهُ الَّتِیْ هُوَ فِیْ بَیْتِهَا عَنْ نَّفْسِهٖ وَ غَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ وَ قَالَتْ هَیْتَ لَكَ١ؕ قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اِنَّهٗ رَبِّیْۤ اَحْسَنَ مَثْوَایَ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ﴿23﴾
- وَرَاوَدَتْهُاور اسے پھسلایا
- الَّتِيْوہ عورت جو
- هُوَاس
- فِيْمیں
- بَيْتِهَااس کا گھر
- عَنْ نَّفْسِهٖاپنے آپ کو روکنے سے
- وَغَلَّقَتِاور بند کردئیے
- الْاَبْوَابَدروازے
- وَقَالَتْاور بولی
- هَيْتَ لَكَآ جا جلدی کر
- قَالَاس نے کہا
- مَعَاذَ اللّٰهِاللہ کی پناہ
- اِنَّهٗبیشک وہ
- رَبِّيْٓمیرا مالک
- اَحْسَنَبہت اچھا
- مَثْوَايَاور رہنا سہنا
- اِنَّهٗبیشک
- لَا يُفْلِحُبھلائی نہیں پاتے
- الظّٰلِمُوْنَظالم (جمع)
Translation · Tafheem-ul-Quran
جس عورت کے گھر میں وہ تھا وہ اُس پر ڈورے ڈالنے لگی اور ایک روز دروازے بند کر کے بولی”آجا۔“ یُوسف نے کہا”خدا کی پناہ، میرے ربّ نے تو مجھے اچھی منزلت بخشی(اور میں یہ کام کروں!)ایسے ظالم کبھی فلاح نہیں پایا کرتے۔“21
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة یُوْسُف 21
عام طور پر مفسرین اور مترجمین نے یہ سمجھا ہے کہ یہاں ”میرے رب“ کا لفظ حضرت یوسف ؑ نے اس شخص کے لیے استعمال کیا ہے جس کی ملازمت میں وہ اس وقت تھے اور ان کے اس جواب کا مطلب یہ تھا کہ میرے آقا نے تو مجھے ایسی اچھی طرح رکھا ہے، پھر میں یہ نمک حرامی کیسے کرسکتا ہوں کہ اس کی بیوی سے زنا کروں۔ لیکن مجھے اس ترجمہ و تفسیر سے سخت اختلاف ہے۔ اگرچہ عربی زبان کے اعتبار سے یہ مفہوم لینے کی بھی گنجائش ہے، کیونکہ عربی میں لفظ رب ”آقا“ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، لیکن یہ بات ایک نبی کی شان سے بہت گری ہوئی ہے کہ وہ ایک گناہ سے باز رہنے میں اللہ تعالیٰ کے بجائے کسی بندے کا لحاظ کرے۔ اور قرآن میں اس کی کوئی نظیر بھی موجود نہیں ہے کہ کسی نبی نے خدا کے سوا کسی اور کو اپنا رب کہا۔ آگے چل کر آیات 41، 42، 50 میں ہم دیکھتے ہیں کہ سیدنا یوسف ؑ اپنے اور مصریوں کے مسلک کا یہ فرق بار بار واضح فرماتے ہیں کہ ان کا رب تو اللہ ہے اور مصریوں نے بندوں کو اپنا رب بنا رکھا ہے۔ پھر جب آیت کے الفاظ میں یہ مطلب لینے کی بھی گنجائش موجود ہے کہ حضرت یوسف ؑ نے رب ی کہہ کر اللہ کی ذات مراد لی ہو، تو کیا وجہ ہے کہ ہم ایک ایسے معنی کو اختیار کریں جس میں صریحا قباحت کا پہلو نکلتا ہے۔