Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 12. Yusuf · Ayah 27

Tafseer
  1. وَ اِنْ كَانَ قَمِیْصُهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَ هُوَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ﴿27﴾

    1. وَاِنْاور اگر
    2. كَانَہے
    3. قَمِيْصُهٗاس کی قمیص
    4. قُدَّپھٹی ہوئی
    5. مِنْ دُبُرٍپیچھے سے
    6. فَكَذَبَتْتو وہ جھوٹی
    7. وَهُوَاور وہ
    8. مِنَسے
    9. الصّٰدِقِيْنَسچے
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور اگر اِس کا قمیص پیچھے سے پھٹا ہو تو عورت جھُوٹی ہے اور یہ سچا۔“25
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة یُوْسُف 25 مطلب یہ ہے کہ اگر یوسف ؑ کا قمیص سامنے سے پھٹا ہو تو یہ اس بات کی صریح علامت ہے کہ اقدام یوسف ؑ کی جانب سے تھا اور عورت اپنے آپ کو بچانے کے لیے کش مکش کر رہی تھی۔ لیکن اگر یوسف ؑ کا قمیص پیچھے سے پھٹا ہے تو اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ عورت اس کے پیچھے پڑی ہوئی تھی اور یوسف ؑ اس سے بچ کر نکل جانا چاہتا تھا۔ اس کے علاوہ قرینے کی ایک اور شہادت بھی اس شہادت میں چھپی ہوئی تھی۔ وہ یہ کہ اس شاہد نے توجہ صرف یوسف ؑ کے قمیص کی طرف دلائی۔ اس سے صاف ظاہر ہوگیا کہ عورت کے جسم یا اس کے لباس پر تشدد کی کوئی علامت سرے سے پائی ہی نہ جاتی تھی، حالانکہ اگر یہ مقدمہ اقدام زنا بالجبر کا ہوتا تو عورت پر اس کے کھلے آثار پائے جاتے۔