Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 12. Yusuf · Ayah 29

Tafseer
  1. یُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا١ٚ وَ اسْتَغْفِرِیْ لِذَنْۢبِكِ١ۖۚ اِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخٰطِئِیْنَ۠ع﴿29﴾

    1. يُوْسُفُیوسف
    2. اَعْرِضْجانے دے
    3. عَنْسے۔ کو
    4. ھٰذَااس
    5. وَاسْتَغْفِرِيْاور اے عورت بخشش مانگ
    6. لِذَنْۢبِكِاپنے گناہ کی
    7. اِنَّكِبیشک تو
    8. كُنْتِتو ہے
    9. مِنَسے
    10. الْخٰطِئِيْنَخطا کار (جمع)
Translation · Tafheem-ul-Quran
یُوسُف، اس معاملے سے درگزر کر، اور اے عورت، تُو اپنے قصُور کی معافی مانگ، تُو ہی اصل میں خطا کار تھی۔“251
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة یُوْسُف 25A بائیبل میں اس قصے کو جس بھونڈے طریقہ سے بیان کیا گیا ہے، وہ ملاحظہ ہو، " تب اس عورت نے اس کا پیراہن پکڑ کر کہا کہ میرے ساتھ ہم بستر ہو، وہ اپنا پیراہن اس کے ہاتھ میں چھوڑ کر بھاگا اور باہر نکل گیا۔ جب اس نے دیکھا کہ وہ اپنا پیراہن اس کے ہاتھ میں چھوڑ کر بھاگ گیا تو اس نے اپنے گھر کے آدمیوں کو بلا کر ان سے کہا کہ دیکھو وہ ایک عبری کو ہم سے مذاق کرنے کے لیے ہمارے پاس لے آیا ہے۔ یہ مجھ سے ہم بستر ہونے کو اندر گھس آیا اور میں بلند آواز سے چلانے لگی۔ جب اس نے دیکھا کہ میں زور زور سے چلا رہی ہوں تو اپنا پیراہن میرے پاس چھوڑ کر بھاگا اور باہر نکل گیا۔ اور وہ اس کا پیراہن اس کے آقا کے گھر لوٹنے تک اپنے پاس رکھے رہی۔۔ جب اس کے آقا نے اپنی بیوی کی وہ باتیں جو اس نے اس سے کہیں سن لیں کہ تیرے غلام نے مجھ سے ایسا ایسا کیا تو اس کا غضب بھڑکا اور یوسف کے آقا نے اس کو لے کر قید خانے میں جہاں بادشاہ کے قیدی بند تھے ڈال دیا (پیدائش 39 12 -20) خلاصہ اس عجیب و غریب روایت کا یہ ہے کہ حضرت یوسف ؑ کے جسم پر لباس کچھ اس قسم کا تھا کہ ادھر زلیخا نے اس پر ہاتھ ڈالا اور ادھر وہ پورا لباس خود بخود اتر کر اس کے ہاتھ میں آگیا ! پھر لطف یہ ہے کہ حضرت یوسف ؑ وہ لباس اس کے پاس چھوڑ کر یونہی برہنہ بھاگ نکلے اور ان کا لباس یعنی ان کے قصور کا ناقابل انکار ثبوت اس عورت کے پاس ہی رہ گیا۔ اس کے بعد حضرت یوسف ؑ کے مجرم ہونے میں آخر کون شک کرسکتا تھا " یہ تو ہے بائیبل کی روایت۔ رہی تلمود تو اس کا بیان ہے کہ فوطیفار نے جب اپنی بیوی سے یہ شکایت سنی تو اس نے یوسف ؑ کو خوب پٹوایا، پھر ان کے خلاف عدالت میں استغاثہ دائر کیا اور حکام عدالت نے حضرت یوسف ؑ کی قمیص کا جائزہ لے کر فیصلہ کیا کہ قصور عورت کا ہے، کیونکہ قمیص پیچھے سے پھٹا ہے نہ کہ آگے سے۔ لیکن یہ بات ہر صاحب عقل آدمی تھوڑے سے غور و تامل سے بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ قرآن کی روایت تلمود کی روایت سے زیادہ قرین قیاس ہے۔ آخر کس طرح یہ باور کرلیا جائے کہ ایسا بڑا ایک ذی وجاہت آدمی اپنی بیوی پر اپنے غلام کی دست درازی کا معاملہ خود عدالت میں لے گیا ہوگا۔ یہ ایک نمایاں ترین مثال ہے قرآن اور اسرائیلی روایات کے فرق کی جس سے مغربی مستشرقین کے اس الزام کی لغویت صاف واضح ہوجاتی ہے کہ محمد ﷺ نے یہ قصے بنی اسرائیل سے نقل کرلیے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ قرآن نے تو ان کی اصلاح کی اور اصل واقعات دنیا کو بتائے ہیں۔
Tafheem-ul-Quran - 12 : 29