Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 12. Yusuf · Ayah 3

  1. نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ هٰذَا الْقُرْاٰنَ١ۖۗ وَ اِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِیْنَ﴿3﴾

    1. نَحْنُہم
    2. نَقُصُّبیان کرتے ہیں
    3. عَلَيْكَتم پر
    4. اَحْسَنَبہت اچھا
    5. الْقَصَصِقصہ
    6. بِمَآاس لیے کہ
    7. اَوْحَيْنَآہم نے بھیجا
    8. اِلَيْكَتمہاری طرف
    9. ھٰذَایہ
    10. الْقُرْاٰنَقرآن
    11. وَاِنْاور تحقیق
    12. كُنْتَتو تھا
    13. مِنْ قَبْلِهٖاس سے قبل
    14. لَمِنَالبتہ۔ سے
    15. الْغٰفِلِيْنَبیخبر (جمع)
Translation · Tafheem-ul-Quran
اے محمد ؐ ، ہم اس قرآن کو تمہاری طرف وحی کر کے بہترین پیرایہ میں واقعات اور حقائق تم سے بیان کر تے ہیں، ورنہ اس سے پہلے تو (ان چیزوں سے)تم بالکل ہی بے خبر تھے۔3
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة یُوْسُف 3 سورة کے دیباچے میں ہم بیان کرچکے ہیں کہ کفار مکہ میں سے بعض لوگوں نے آنحضرت ﷺ کا امتحان لینے کے لیے، بلکہ اپنے نزدیک آپ کا بھرم کھولنے کے لیے، غالبا یہودیوں کے اشارے پر، آپ کے سامنے اچانک یہ سوال پیش کیا تھا کہ بنی اسرائیل کے مصر پہنچنے کا کیا سبب ہوا۔ اسی بنا پر ان کے جواب میں تاریخ بنی اسرائیل کا یہ باب پیش کرنے سے پہلے تمہیدا یہ فقرہ ارشاد ہوا ہے کہ اے محمد ﷺ ! تم ان واقعات سے بیخبر تھے، دراصل یہ ہم ہیں جو وحی کے ذریعہ سے تمہیں ان کی خبر دے رہے ہیں۔ بظاہر اس فقرے میں خطاب نبی ﷺ سے ہے، لیکن اصل میں روئے سخن ان مخالفین کی طرف ہے جن کو یقین نہ تھا کہ آپ کو وحی کے ذریعہ سے علم حاصل ہوتا ہے۔