تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 12. Yusuf · Ayah 42
Tafseerوَ قَالَ لِلَّذِیْ ظَنَّ اَنَّهٗ نَاجٍ مِّنْهُمَا اذْكُرْنِیْ عِنْدَ رَبِّكَ١٘ فَاَنْسٰىهُ الشَّیْطٰنُ ذِكْرَ رَبِّهٖ فَلَبِثَ فِی السِّجْنِ بِضْعَ سِنِیْنَؕ۠ع﴿42﴾
- وَقَالَاور کہا
- لِلَّذِيْاس سے جس
- ظَنَّاس نے گمان کیا
- اَنَّهٗکہ بیشک وہ
- نَاجٍبچے گا وہ
- مِّنْهُمَاان دونوں سے
- اذْكُرْنِيْمیرا ذکر کرنا
- عِنْدَپاس
- رَبِّكَاپنا مالک
- فَاَنْسٰىهُپس اس کو بھلا دیا
- الشَّيْطٰنُشیطان
- ذِكْرَ رَبِّهٖاپنے مالک سے ذکر کرنا
- فَلَبِثَتو رہا
- فِي السِّجْنِقید میں
- بِضْعَ سِنِيْنَچند برس
Translation · Tafheem-ul-Quran
پھر اُن میں سے جس کے متعلق خیال تھاکہ وہ رہا ہو جائے گا اس سے یُوسُف ؑ نے کہا کہ ”اپنے ربّ (شاہِ مصر)سے میرا ذکر کرنا۔“ مگر شیطان نے اسے ایسا غفلت میں ڈالا کہ وہ اپنے ربّ (شاہِ مصر)سے اس کا ذکر کرنا بھُول گیا اور یُوسُف ؑ کئی سال قیدخانے میں پڑا رہا۔35
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة یُوْسُف 35
اس مقام کی تفسیر بعض مفسرین نے یہ کی ہے کہ ”شیطان نے حضرت یوسف ؑ کو اپنے رب (یعنی اللہ تعالی) کی یاد سے غافل کردیا اور انہوں نے ایک بندے سے چاہا کہ وہ اپنے رب (یعنی شاہ مصر) سے ان کا تذکرہ کر کے ان کی رہائی کی کوشش کرے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ سزا دی کہ وہ کئی سال تک جیل میں پڑے رہے“۔ درحقیقت یہ تفسیر بالکل غلط ہے۔ صحیح یہی ہے، جیسا کہ علامہ ابن کثیر، اور متقدمین میں سے مجاہد اور محمد بن اسحاق وغیرہ نے کہا ہے کہ فَاَنْسٰىهُ الشَّيْطٰنُ ذِكْرَ رَبِّهٖ کی ضمیر اس شخص کی طرف پھرتی ہے جس کے متعلق حضرت یوسف ؑ کا گمان تھا کہ وہ رہائی پانے والا ہے، اور اس آیت کے معنی یہ ہیں کہ ”شیطان نے اسے اپنے آقا سے حضرت یوسف ؑ کا ذکر کرنا بھلا دیا“۔ اس سلسلہ میں ایک حدیث بھی پیش کی جاتی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ ”اگر یوسف ؑ نے وہ بات نہ کہی ہوتی جو انہوں نے کہی تو وہ قید میں کئی سال نہ پڑے رہتے“۔ لیکن علامہ ابن کثیر فرماتے ہیں کہ ”یہ حدیث جتنے طریقوں سے روایت کی گئی ہے وہ سب ضعیف ہیں۔ بعض طریقوں سے یہ مرفوعا روایت کی گئی ہے اور ان میں سفیان بن وکیع اور ابراہیم بن یزید راوی ہیں جو دونوں ناقابل اعتماد ہیں۔ اور بعض طریقوں سے یہ مرسلا روایت ہوئی ہے اور ایسے معاملات میں مرسلات کا اعتبار نہیں کیا جا سکتا“۔ علاوہ بریں روایت کے اعتبار سے بھی یہ بات باور کرنے کے قابل نہیں ہے کہ ایک مظلوم شخص کا اپنی رہائی کے لیے دنیوی تدبیر کرنا خدا سے غفلت اور توکل کے فقدان کی دلیل قرار دیا گیا ہوگا۔