Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 12. Yusuf · Ayah 45

Tafseer
  1. وَ قَالَ الَّذِیْ نَجَا مِنْهُمَا وَ ادَّكَرَ بَعْدَ اُمَّةٍ اَنَا اُنَبِّئُكُمْ بِتَاْوِیْلِهٖ فَاَرْسِلُوْنِ﴿45﴾

    1. وَقَالَاور اس نے کہا
    2. الَّذِيْوہ جو
    3. نَجَابچا
    4. مِنْهُمَاان دو سے
    5. وَادَّكَرَاور اسے یاد آیا
    6. بَعْدَبعد
    7. اُمَّةٍایک مدت
    8. اَنَا اُنَبِّئُكُمْمیں بتلاؤں گا تمہیں
    9. بِتَاْوِيْلِهٖاس کی تعبیر
    10. فَاَرْسِلُوْنِسو مجھے بھیج دو
Translation · Tafheem-ul-Quran
اُن دو قیدیوں میں سے جو شخص بچ گیا تھا اور اُسے ایک مُدّتِ دراز کے بعد اب بات یاد آئی، اُس نے کہا”میں آپ حضرات کو اس کی تاویل بتاتا ہوں، مجھے ذرا (قید خانے میں یُوسُف ؑ کے پاس)بھیج دیجیے۔38“
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة یُوْسُف 38 قرآن نے یہاں اختصار سے کام لیا ہے۔ بائیبل اور تلمود سے اس کی تفصیل یہ معلوم ہوتی ہے (اور قیاس بھی کہتا ہے کہ ضرور ایسا ہوا ہوگا) کہ سردار ساقی نے یوسف ؑ کے حالات بادشاہ سے بیان کیے، اور جیل میں اس کے خواب اور اس کے ساتھی کے خواب کی جیسی صحیح تعبیر انہوں نے دی تھی اس کا ذکر بھی کیا اور کہا کہ میں ان سے اس کی تاویل پوچھ کر آتا ہوں، مجھے قید خانہ میں ان سے ملنے کی اجازت عطا کی جائے۔
Tafheem-ul-Quran - 12 : 45