Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 12. Yusuf · Ayah 46

Tafseer
  1. یُوْسُفُ اَیُّهَا الصِّدِّیْقُ اَفْتِنَا فِیْ سَبْعِ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعِ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ۙ لَّعَلِّیْۤ اَرْجِعُ اِلَى النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَعْلَمُوْنَ﴿46﴾

    1. يُوْسُفُاے یوسف
    2. اَيُّهَا الصِّدِّيْقُاے بڑے سچے
    3. اَفْتِنَاہمیں بتا
    4. فِيْمیں
    5. سَبْعِسات
    6. بَقَرٰتٍگائیں
    7. سِمَانٍموٹی تازی
    8. يَّاْكُلُهُنَّوہ کھا رہی ہیں
    9. سَبْعٌسات
    10. عِجَافٌدبلی پتلی
    11. وَّسَبْعِاور سات
    12. سُنْۢبُلٰتٍخوشے
    13. خُضْرٍسبز
    14. وَّاُخَرَاور دوسرے
    15. يٰبِسٰتٍخشک
    16. لَّعَلِّيْٓتاکہ میں
    17. اَرْجِعُمیں لوٹوں
    18. اِلَى النَّاسِلوگوں کی طرف (پاس)
    19. لَعَلَّهُمْشاید وہ
    20. يَعْلَمُوْنَآگاہ ہوں
Translation · Tafheem-ul-Quran
اُس نے جا کر کہا”یُوسُف ؑ، اے سراپا راستی،39 مجھے اس خواب کا مطلب بتا کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو سات دُبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات بالیں ہری ہیں اور سات سوکھی۔ شاید کہ میں اُن لوگوں کے پاس واپس جاوٴں اور شاید کہ وہ جان لیں۔“40
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة یُوْسُف 39 متن میں لفظ ”صدیق“ استعمال ہوا ہے جو عربی زبان میں سچائی اور راستبازی کے انتہائی مرتبے کہ لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ قید خانے کے زمانہ قیام میں اس شخص نے یوسف ؑ کی سیرت پاک سے کیسا گہرا اثر لیا تھا اور یہ اثر ایک مدت گزر جانے کے بعد بھی کتنا راسخ تھا۔ صدیق کی مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو، جلد اول سورة نساء، 99 سورة یُوْسُف 40 یعنی آپ کی قدر و منزلت جان لیں اور ان کو احساس ہو کہ کس پایہ کے آدمی کو انہوں نے کہاں بند کر رکھا ہے، اور اس طرح مجھے اپنے اس وعدے کے ایفاء کا موقع مل جائے جو میں نے آپ سے قید کے زمانہ میں کیا تھا۔
Tafheem-ul-Quran - 12 : 46