Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 12. Yusuf · Ayah 6

  1. وَ كَذٰلِكَ یَجْتَبِیْكَ رَبُّكَ وَ یُعَلِّمُكَ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ وَ یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اٰلِ یَعْقُوْبَ كَمَاۤ اَتَمَّهَا عَلٰۤى اَبَوَیْكَ مِنْ قَبْلُ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠ع﴿6﴾

    1. وَكَذٰلِكَاور اسی طرح
    2. يَجْتَبِيْكَچن لے گا تجھے
    3. رَبُّكَتیرا رب
    4. وَيُعَلِّمُكَاور سکھائے گا تجھے
    5. مِنْسے
    6. تَاْوِيْلِانجام نکالنا
    7. الْاَحَادِيْثِباتیں
    8. وَيُتِمُّاور مکمل کرے گا
    9. نِعْمَتَهٗاپنی نعمت
    10. عَلَيْكَتجھ پر
    11. وَاور
    12. عَلٰٓيپر
    13. اٰلِ يَعْقُوْبَیعقوب کے گھر والے
    14. كَمَآجیسے
    15. اَتَمَّهَااس نے اسے پورا کیا
    16. عَلٰٓيپر
    17. اَبَوَيْكَتیرے باپ دادا
    18. مِنْ قَبْلُاس سے پہلے
    19. اِبْرٰهِيْمَابراہیم
    20. وَاِسْحٰقَاور اسحق
    21. اِنَّبیشک
    22. رَبَّكَتیرا رب
    23. عَلِيْمٌعلم والا
    24. حَكِيْمٌحکمت والا
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور ایسا ہی ہو گا(جیسا تُو نے خواب میں دیکھا ہے کہ)تیرا ربّ تجھے (اپنے کام کے لیے)منتخب کرے گا5 اور تجھے باتوں کی تہ تک پہنچنا سکھائے گا6 اور تیرے اوپر اور آلِ یعقوب ؑ پر اپنی نعمت اسی طرح پوری کرے گا جس طرح اس سے پہلے وہ تیرے بزرگوں ، ابراہیم ؑ اور اسحاق ؑ پر کر چکا ہے، یقیناً تیرا ربّ علیم اور حکیم ہے۔“7
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة یُوْسُف 5 یعنی نبوت عطا کرے گا۔ سورة یُوْسُف 6 ”تَاوِیل الاَحَا دیثِ“ کا مطلب محض تعبیر خواب کا علم نہیں ہے جیسا کہ گمان کیا گیا ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تجھے معاملہ فہمی اور حقیقت رسی کی تعلیم دے گا اور وہ بصیرت تجھ کو عطا کرے گا جس سے تو ہر معاملہ کی گہرائی میں اترنے اور اس کی تہہ کو پالینے کے قابل ہوجائے گا۔ سورة یُوْسُف 7 بائیبل اور تلمود کا بیان قرآن کے اس بیان سے مختلف ہے۔ ان کا بیان یہ ہے کہ حضرت یعقوب ؑ نے خواب سن کر بیٹے کو خوب ڈانٹا اور کہا، اچھا اب تو یہ خواب دیکھنے لگا ہے کہ میں اور تیری ماں اور تیرے سب بھائی تجھے سجدہ کریں گے۔ لیکن ذرا غور کرنے سے بآسانی یہ بات سمجھ میں آسکتی ہے کہ حضرت یعقوب ؑ کی پیغمبرانہ سیرت سے قرآن کا بیان زیادہ مناسبت رکھتا ہے نہ کہ بائیبل اور تلمود کا۔ حضرت یوسف ؑ نے خواب بیان کیا تھا، کوئی اپنی تمنا اور خواہش نہیں بیان کی تھی خواب اگر سچا تھا، اور ظاہر ہے کہ حضرت یعقوب ؑ نے جو اس کی تعبیر نکالی وہ سچا خواب ہی سمجھ کر نکالی تھی، تو اس کے صاف معنی یہ تھے کہ یہ یوسف ؑ کی خواہش نہیں تھی بلکہ تقدیر الٰہی کا فیصلہ تھا کہ ایک وقت ان کو یہ عروج حاصل ہوا۔ پھر کیا ایک پیغمبر تو درکنار ایک معقول آدمی کا بھی یہ کام ہوسکتا ہے کہ ایسی بات پر برا مانے اور خواب دیکھنے والے کو الٹی ڈانٹ پلائے ؟ اور کیا کوئی شریف باپ ایسا بھی ہوسکتا ہے جو اپنے ہی بیٹے کے آئندہ عروج کی بشارت سن کر خوش ہونے کے بجائے الٹا جل بھن جائے ؟