Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 12. Yusuf · Ayah 70

  1. فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَایَةَ فِیْ رَحْلِ اَخِیْهِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَیَّتُهَا الْعِیْرُ اِنَّكُمْ لَسٰرِقُوْنَ﴿70﴾

    1. فَلَمَّاپھر جب
    2. جَهَّزَهُمْانہیں تیار کردیا
    3. بِجَهَازِهِمْان کا سامان
    4. جَعَلَرکھ دیا
    5. السِّقَايَةَپینے کا پیالہ
    6. فِيْمیں
    7. رَحْلِسامان
    8. اَخِيْهِاپنا بھائی
    9. ثُمَّپھر
    10. اَذَّنَاعلان کیا
    11. مُؤَذِّنٌمنادی کرنیوالا
    12. اَيَّتُهَا الْعِيْرُاے قافلے والو
    13. اِنَّكُمْبیشک تم
    14. لَسٰرِقُوْنَالبتہ چور ہو
Translation · Tafheem-ul-Quran
جب یُوسُف ؑ ان بھائیوں کا سامان لدوانے لگا تو اس نے اپنے بھائی کے سامان میں اپنا پیالہ رکھ دیا۔56 پھر ایک پُکارنے والے نے پُکار کر کہا”اے قافلے والو، تم لوگ چور ہو۔“57
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
56۔ پیالہ رکھنے کا فعل غالبا حضرت یوسف نے اپنے بھائی کی رضا مندی سے اور اس کے علم میں کیا تھا جیسا کہ اس سے پہلے والی آیت اشارہ کر رہی ہے۔ حضرت یوسف اپنے مدتوں کے بچھڑے ہوئے بھائی کو ان ظالم سوتیلے بھائیوں کے پنجے سے چھڑانا چاہتے ہوں گے، بھائی خود بھی ان ظالموں کے ساتھ واپس نہ جانا چاہتا ہوگا، مگر علانیہ آپ کا اسے روکنبا اور اس کا رک جانا بغیر اس کے ممکن نہ تھا کہ حضرت یوسف اپنی شخصیت کو ظاہر کرتے، اور اس کا اظہار اس موقع پر مصلحت کے خلاف تھا، اس لیے دونوں بھائیوں میں مشہور ہوا ہوگا کہ اسے روکنے کی یہ تدبیر کی جائے، اگرچہ تھوڑی دیر کے لیے اس میں بھائی کی سبکی تھی، اس پر چوری کا دھبہ لگتا تھا، لیکن بعد میں یہ دھبہ اس طرح بآسانی دھل سکتا تھا کہ دونوں بھائی اصل معاملہ کو دنیا پر ظاہر کردیں۔ 57۔ اس آیت میں اور بعد والی آیات میں بھی کہیں ایسا کوئی اشارہ موجود نہیں ہے جس سے یہ گمان کیا جاسکے کہ حضڑت یوسف نے اپنے ملازموں کو اس راز میں شریک کیا تھا اور انہیں خود یہ سکھایا تھا کہ قافلے والوں پر جھوٹا الزام لگاؤ، واقعہ کی سادہ صورت جو سمجھ میں آتی ہے وہ یہ کہ پیالہ خاموشی کے ساتھ رکھ دیا گیا ہوگا، بعد میں جب سرکاری ملازموں نے اسے نہ پایا ہوگا تو قیاس کیا ہوگا کہ ہو نہ ہو یہ کام انہی قافلہ والوں میں سے کسی کا ہے جو یہاں ٹھہرے ہوئے تھے۔