Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 12. Yusuf · Ayah 69

  1. وَ لَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَخَاهُ قَالَ اِنِّیْۤ اَنَا اَخُوْكَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴿69﴾

    1. وَلَمَّااور جب
    2. دَخَلُوْاوہ داخل ہوئے
    3. عَلٰي يُوْسُفَیوسف کے پاس
    4. اٰوٰٓىاس نے جگہ دی
    5. اِلَيْهِاپنے پاس
    6. اَخَاهُاپنا بھائی
    7. قَالَاس نے کہا
    8. اِنِّىْٓبیشک میں
    9. اَنَا اَخُوْكَمیں تیرا بھائی
    10. فَلَا تَبْتَئِسْسو تو غمگین نہ ہو
    11. بِمَااس پر جو
    12. كَانُوْاوہ کرتے تھے
    13. يَعْمَلُوْنَوہ کرتے تھے
Translation · Tafheem-ul-Quran
یہ لوگ یُوسُف ؑ کے حضُور پہنچے تو اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس الگ بلا لیا اور اسے بتا دیا کہ”میں تیرا وہی بھائی ہوں (جو کھویا گیا تھا)۔ اب تُو اُن باتوں کا غم نہ کر جو یہ لوگ کرتے رہے ہیں۔“55
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
55۔ اس فقرے میں وہ ساری داستان سمیٹ دی گئی ہے جو اکیس بائیس برس کے بعد دونوں ماں جائے بھائیوں کے ملنے پر پیش آئی ہوگی، حضرت یوسف نے بتایا ہوگا کہ وہ کن حالات سے گزتے ہوئے اس مرتبے پر پہنچے، بن یمین نے سنایا ہوگا کہ ان کے پیچھے سوتیلے بھائیوں نے اس کے ساتھ کیا کیا بدسلوکیاں کیں۔ پھر حضرت یوسف نے بھائی کو تسلی دی ہوگی کہ اب تم میرے پاس ہی رہو گے، ان ظالموں کے پنجے میں تم کو دوبارہ نہیں جانے دوں گا، بعید نہیں کہ اسی موقع پر دونوں بھائیوں میں یہ بھی طے ہوگیا ہو کہ بن یمین کو مصر میں روک رکھنے کے لیے کیا تدبیر کیا جائے جس سے وہ پردہ بھی پڑا رہے جو حضرت یوسف مصلحۃ ابھی ڈالے رکھنا چاہتے تھے۔