Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 12. Yusuf · Ayah 78

  1. قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ اِنَّ لَهٗۤ اَبًا شَیْخًا كَبِیْرًا فَخُذْ اَحَدَنَا مَكَانَهٗ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ﴿78﴾

    1. قَالُوْاکہنے لگے
    2. يٰٓاَيُّهَااے
    3. الْعَزِيْزُعزیز
    4. اِنَّبیشک
    5. لَهٗٓاس کا
    6. اَبًاباپ
    7. شَيْخًابوڑھا
    8. كَبِيْرًابڑی عمر کا
    9. فَخُذْپس لے (رکھ لے)
    10. اَحَدَنَاہم میں سے ایک
    11. مَكَانَهٗاس کی جگہ
    12. اِنَّا نَرٰىكَہم دیکھتے ہیں بیشک تجھے
    13. مِنَسے
    14. الْمُحْسِنِيْنَاحسان کرنے والے
Translation · Tafheem-ul-Quran
انہوں نے کہا”اے سردار ذی اقتدار(عزیز) 62، اس کا باپ بہت بُوڑھا آدمی ہے، اس کی جگہ آپ ہم میں سےکسی کو رکھ لیجیے، ہم آپ کو بڑا ہی نیک نفس انسان پاتے ہیں۔“
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
62۔ یہاں لفظ " عزیز " حضرت یوسف کے لیے جو استعمال ہوا ہے صرف اس کی بنا پر مفسرین نے قیاس کرلیا کہ حضرت یوسف اسی منصب پر مامور ہوئے تھے جس پر اس سے پہلے زلیخا کا شوہر مامور تھا پھر اس پر مزید قیاسات کی عمارت کھڑی کرلی گئی کہ سابق عزیز مرگیا تھا، حضرت یوسف اس کی جگہ مقرر کیے گئے، زلیخا ازسر نو معجزے کے ذریعہ سے جوان کی گئی، اور شاہ مصر نے اس سے حضرت یوسف کا نکاح کردیا۔ حد یہ ہے کہ شب عروسی میں حضرت یوسف اور زلیخا کے درمیان جو باتیں ہوئیں وہ تک کسی ذریعہ سے ہمارے مفسرین کو پہنچ گئیں۔ حالانکہ یہ سب باتیں سراسر وہم ہیں، لفظ " عزیز " کے متعلق ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ یہ مصر میں کسی خاص منصب کا نام نہ تھا بلکہ محض " صاحب اقتدار " کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ غالبا مصر میں بڑے لوگوں کے لیے اس طرح کا کوئی لفظ اصطلاحا رائج تھا جیسے ہمارے ملک میں لفظ " سرکار " بولا جاتا ہے، اسی کا ترجمہ قرآن میں " عزیز " کیا گیا ہے۔ رہا زلیخا سے حضرت یوسف کا نکاح، تو اس افسانے کی بنیاد صڑف یہ ہے کہ بائیبل اور تلمود میں فوطیفرع کی بیٹی آسناتھ سے ان کے نکاح کی روایت بیان کی گئی ہے۔ اور زلیخا کے شوہر کا نام فوطیفار تھا، یہ چیزیں اسرائیلی روایات سے نقل در نقل ہوتی ہوئی مفسرین تک پہنچیں اور جیسا کہ زبانی افواہوں کا قاعدہ ہے، فوطیفرع بآسانی فوطیفار بن گیا، بیٹی کی جگہ بیوی کو مل گئی اور بیوی لا محالہ زلیخا ہی تھی، لہذا اس سے حضرت یوسف کا نکاح کرنے کے لیے فوطیفار کو مار دیا گیا، اور اس طرح " یوسف زلیخا " کی تصنیف مکمل ہوگئی۔