تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 12. Yusuf · Ayah 79
قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اَنْ نَّاْخُذَ اِلَّا مَنْ وَّجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّظٰلِمُوْنَ۠ع﴿79﴾
- قَالَاس نے کہا
- مَعَاذَ اللّٰهِاللہ کی پناہ
- اَنْکہ
- نَّاْخُذَہم پکڑیں
- اِلَّاسوا
- مَنْجس کو
- وَّجَدْنَاہم نے پایا
- مَتَاعَنَااپنا سامان
- عِنْدَهٗٓاس کے پاس
- اِنَّآ اِذًابیشک ہم جب
- لَّظٰلِمُوْنَالبتہ ظالموں سے
Translation · Tafheem-ul-Quran
یُوسُف ؑ نے کہا”پناہِ خدا، دُوسرے کسی شخص کو ہم کیسے رکھ سکتے ہیں، جس کے پاس ہم نے اپنا مال پایا ہے63 اُس کو چھوڑ کر دُوسرے کو رکھیں گے تو ہم ظالم ہوں گے۔“
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
63۔ احتیاط ملاحظہ ہو کہ " چور " نہیں کہتے بلکہ صرف یہ کہتے ہیں کہ " جس کے پاس ہم نے اپنا مال مایا ہے " اسی کو اصطلاح شرع میں " توریہ " کہتے ہیں، یعنی حقیقت پر پردہ ڈالنا، یا امر واقعہ کو چھپانا، جب کسی مظلوم کو ظالم سے بچانے یا کسی بڑے مظملہ کو دفع کرنے کی کوئی صورت اس کے سوا نہ ہو کہ کچھ خلاف واقعہ بات کہی جائے یا کوئی خلاف حقیقت حیلہ کیا جائے، تو ایسی صورت میں ایک پرہیزگار آدمی صریح جھوٹ بولنے سے احتراز کرتے ہوئے ایسی بات کہنے یا ایسی تدبیر کرنے کی کوشش کرے گا، جس سے حقیقت کو چھپا کر بدی کو دفع کیا جاسکے۔ ایسا کرنا شرع و اخلاق میں جائز ہے بشرطیکہ محض کام نکالنے کے لیے ایسا نہ کیا جائے بلکہ کسی بڑی برائی کو دور کرنا ہو، اب دیکھیے کہ اس سارے معاملہ میں حضرت یوسف نے کس طرح جائز توریہ کی شرائط پوری کی ہیں۔ بھائی کی رضا مندی سے اس کے سامان میں پیالہ رکھ دیا مگر ملازموں سے یہ نہیں کہ کہ اس پر چوری کا الزام لگاؤ، پھر جب سرکاری ملازم چوری کے الزام میں ان لوگوں کو پکڑ لائے تو خاموشی کے ساتھ اٹھ کر تلاشی لے لی، پھر اب جو ان بھائیوں نے کہا کہ بن یمین کی جگہ ہم میں سے کسی کو رکھ لیجیے، تو اس کے جواب میں بھی بس انہی کی بات ان پر الٹ دی کہ تمہارا اپنا فتویٰ یہ تھا کہ جس کے سامان میں سے تمہارا مال نکلے وہی رکھ لیا جائے، سو اب تمہارے سامنے بن یمین کے سامان میں سے ہمارا مال نکلا ہے اور اسی کو ہم رکھ لیتے ہیں، دوسرے کو اس کی جگہ کیسے رکھ سکتے ہیں ؟ اس قسم کے توریہ کی مثالیں خود نبی ﷺ کے غزوات میں بھی ملتی ہیں اور کسی دلیل سے بھی اس کو اخلاقا معیوب نہیں کہا جاسکتا۔