تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 12. Yusuf · Ayah 94
وَ لَمَّا فَصَلَتِ الْعِیْرُ قَالَ اَبُوْهُمْ اِنِّیْ لَاَجِدُ رِیْحَ یُوْسُفَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ﴿94﴾
- وَلَمَّااور جب
- فَصَلَتِجدا جدا (روانہ ہو)
- الْعِيْرُقافلہ
- قَالَکہا
- اَبُوْهُمْان کا باپ
- اِنِّىْبیشک میں
- لَاَجِدُالبتہ پاتا ہوں
- رِيْحَہوا (خوشبو)
- يُوْسُفَیوسف
- لَوْلَآاگر نہ
- اَنْکہ
- تُفَنِّدُوْنِمجھے بہک گیا جانو
Translation · Tafheem-ul-Quran
جب یہ قافلہ (مصر سے)روانہ ہوا تو ان کے باپ نے (کنعان میں)کہا”میں یُوسُف ؑ کی خوشبو محسُوس کر رہا ہوں،66 تم لوگ کہیں یہ نہ کہنے لگو کہ میں بڑھاپے میں سٹھیا گیا ہوں۔“
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
66۔ اس سے انبیاء (علیہم السلام) کی غیر معمولی قوتوں کا اندازہ ہوتا ہے کہ ابھی قافلہ حضرت یوسف کا قمیص لیکر مصر سے چلا ہے اور ادھر سیکڑوں میل کے فاصلے پر حضرت یعقوب اس کی مہک پالیتے ہیں، مگر اسی سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کی یہ قوتیں کچھ ان کی ذاتی نہ تھیں بلکہ اللہ کی بخشش سے ان کو ملی تھیں اور اللہ جب اور جس قدر چاہتا تھا انہیں کام کرنے کا موقع دیتا تھا۔ حضرت یوسف برسوں مصر میں موجود رہے اور کبھی حضرت یعقوب کو ان کی خوشبو نہ آئی۔ مگر اب یکایک قوت ادراک کی تیزی کا یہ عالم ہوگیا کہ ابھی ان کا قمیص مصر سے چلا ہے اور وہاں ان کی مہک آنی شروع ہوگئی۔
یہاں یہ ذکر بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ ایک طرف قرآن حضرت یعقوب کو اس پیغمرانہ شان کے ساتھ پیش کر رہا ہے، اور دوسری طرف بنی اسرائیل ان کو ایسے رنگ میں دکھاتے ہیں جیسا عرب کا ہر معمولی بد ہوسکتا ہے، بائیبل کا بیان ہے کہ جب بیٹوں نے آکر خبر دی کہ یوسف اب تک جیتا ہے اور وہی سارے ملک مصر کا حاکم ہے تو یعقوب کا دل دھک سے رہ گیا کیونکہ اس نے ان کا یقین نہ کیا، اور جب ان کے باپ یعقوب نے وہ گاڑیاں دیکھ لیں جو یوسف نے ان کو لانے کے لیے بھیجی تھیں تب اس کی جان میں جان آئی، پیدائش 45، 26، 27ٌ)