تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 13. Ar-Ra'd · Ayah 14
لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَجِیْبُوْنَ لَهُمْ بِشَیْءٍ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّیْهِ اِلَى الْمَآءِ لِیَبْلُغَ فَاهُ وَ مَا هُوَ بِبَالِغِهٖ١ؕ وَ مَا دُعَآءُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ﴿14﴾
- لَهٗاس کو
- دَعْوَةُپکارنا
- الْحَقِّحق
- وَالَّذِيْنَاور جن کو
- يَدْعُوْنَوہ پکارتے ہیں
- مِنْ دُوْنِهٖاس کے سوا
- لَا يَسْتَجِيْبُوْنَوہ جواب نہیں دیتے
- لَهُمْان کو
- بِشَيْءٍکچھ بھی
- اِلَّامگر
- كَبَاسِطِجیسے پھیلا دے
- كَفَّيْهِاپنی ہتھیلیاں
- اِلَى الْمَآءِپانی کی طرف
- لِيَبْلُغَتاکہ پہنچ جائے
- فَاهُاس کے منہ تک
- وَمَااور نہیں
- هُوَوہ
- بِبَالِغِهٖاس تک پہنچنے والا
- وَمَااور نہیں
- دُعَآءُپکار
- الْكٰفِرِيْنَکافر (جمع)
- اِلَّاسوائے
- فِيْمیں
- ضَلٰلٍگمراہی
Translation · Tafheem-ul-Quran
اسی کو پکارنا برحق ہے۔23 رہیں وہ دُوسری ہستیاں جنہیں اس کو چھوڑ کر یہ لوگ پکارتے ہیں، وہ اُن کی دعاوٴں کا کوئی جواب نہیں دے سکتیں۔ اُنہیں پُکارنا تو ایسا ہے جیسے کوئی شخص پانی کی طرف ہاتھ پھیلا کر اُس سے درخواست کرے کہ تُو میرے منہ تک پہنچ جا، حالانکہ پانی اُس تک پہنچے والا نہیں۔ بس اِسی طرح کافروں کی دعائیں بھی کچھ نہیں ہیں مگر ایک تیرِ بے ہدف!
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الرَّعْد 23
پکارنے سے مراد اپنی حاجتوں میں مدد کے لیے پکارنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ حاجت روائی و مشکل کشائی کے سارے اختیارات اسی کے ہاتھ میں ہیں، اس لیے صرف اسی سے دعائیں مانگنا برحق ہے۔