تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 13. Ar-Ra'd · Ayah 15
وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ ظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ۩۩﴿15﴾
- وَلِلّٰهِاور اللہ ہی کو
- يَسْجُدُسجدہ کرتا ہے
- مَنْجو
- فِيمیں
- السَّمٰوٰتِآسمانوں
- وَالْاَرْضِاور زمین
- طَوْعًاخوشی سے
- وَّكَرْهًایا ناخوشی سے
- وَّظِلٰلُهُمْاور ان کے سائے
- بِالْغُدُوِّصبح
- وَالْاٰصَالِاور شام
Translation · Tafheem-ul-Quran
وہ تو اللہ ہی ہے جس کو زمین و آسمان کی ہر چیز طوعًا و کرہًا سجدہ کر رہی ہے24 اور سب چیزوں کے سائے صبح و شام اُس کے آگے جُھکتے ہیں۔25
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الرَّعْد 24
سجدے سے مراد اطاعت میں جھکنا، حکم بجا لانا اور سرتسلیم خم کرنا ہے۔ زمین و آسمان کی ہر مخلوق اس معنی میں اللہ کو سجدہ کر رہی ہے کہ وہ اس کے قانون کی مطیع ہے اور اس کی مشیت سے بال برابر بھی سرتابی نہیں کرسکتی۔ مومن اس کے آگے برضا ورغبت جھکتا ہے تو کافر کو مجبورا جھکنا پڑتا ہے، کیونکہ خدا کے قانون فطرت سے ہٹنا اس کی مقدرت سے باہر ہے۔
سورة الرَّعْد 25
سایوں کے سجدہ کرنے سے مراد یہ ہے کہ اشیاء کے سایوں کا صبح و شام مغرب اور مشرق کی طرف گرنا اس بات کی علامت ہے کہ یہ سب چیزیں کسی کے امر کی مطیع اور کسی کے قانون سے مسخر ہیں۔