Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 13. Ar-Ra'd · Ayah 19

  1. اَفَمَنْ یَّعْلَمُ اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰى١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِۙ﴿19﴾

    1. اَفَمَنْپس کیا جو
    2. يَّعْلَمُجانتا ہے
    3. اَنَّمَآکہ جو
    4. اُنْزِلَاتارا گیا
    5. اِلَيْكَتمہاری طرف
    6. مِنْسے
    7. رَّبِّكَتمہارا رب
    8. الْحَقُّحق
    9. كَمَنْاس جیسا
    10. هُوَوہ
    11. اَعْمٰىاندھا
    12. اِنَّمَااس کے سوا نہیں
    13. يَتَذَكَّرُسمجھتے ہیں
    14. اُولُوا الْاَلْبَابِعقل والے
Translation · Tafheem-ul-Quran
بھلا یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ شخص جو تمہارے ربّ کی اِس کتاب کو جو اس نے تم پر نازل کی ہے حق جانتا ہے، اور وہ شخص جو اس حقیقت کی طرف سے اندھا ہے، دونوں یکساں ہو جائیں؟35 نصیحت تو دانشمند لوگ ہی قبول کیا کرتے ہیں۔36
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الرَّعْد 35 یعنی نہ دنیا میں ان دونوں کا رویہ یکساں ہوسکتا ہے اور نہ آخرت میں ان کا انجام یکساں۔ سورة الرَّعْد 36 یعنی خدا کی بھیجی ہوئی اس تعلیم اور خدا کے رسول کی اس دعوت کو جو لوگ قبول کیا کرتے ہیں وہ عقل کے اندھے نہیں بلکہ ہوش گوش رکھنے والے بیدار مغز لوگ ہی ہوتے ہیں۔ اور پھر دنیا میں ان کی سیرت و کردار کا وہ رنگ اور آخرت میں ان کا وہ انجام ہوتا ہے جو بعد کی آیتوں میں بیان ہوا ہے۔