Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 13. Ar-Ra'd · Ayah 40

  1. وَ اِنْ مَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ وَ عَلَیْنَا الْحِسَابُ﴿40﴾

    1. وَاِنْاور اگر
    2. مَّا نُرِيَنَّكَتمہیں دکھا دیں ہم
    3. بَعْضَکچھ حصہ
    4. الَّذِيْوہ جو کہ
    5. نَعِدُهُمْہم نے ان سے وعدہ کیا
    6. اَوْیا
    7. نَتَوَفَّيَنَّكَہم تمہیں وفات دیں
    8. فَاِنَّمَاتو اس کے سوا نہیں
    9. عَلَيْكَتم پر (تمہارے ذمے)
    10. الْبَلٰغُپہنچانا
    11. وَعَلَيْنَااور ہم پر (ہمارا کام)
    12. الْحِسَابُحساب لینا
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور اے نبی ؐ ، جس بُرے انجام کی دھمکی ہم اِن لوگوں کو دے رہے ہیں اُس کا کوئی حصہ خواہ ہم تمہارے جیتے جی دکھا دیں یا اس کے ظہُور میں آنے سے پہلے ہم تمہیں اُٹھا لیں، بہر حال تمہارا کام صرف پیغام پہنچا دینا ہے اور اُسے حساب لینا ہمارا کام ہے۔59
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الرَّعْد 59 مطلب یہ ہے کہ تم اس فکر میں نہ پڑو کہ جن لوگوں نے تمہاری اس دعوت حق کو جھٹلا دیا ہے ان کا انجام کیا ہوتا ہے اور کب وہ ظہور میں آتا ہے۔ تمہارے سپرد جو کام کیا گیا ہے اسے پوری یکسوئی کے ساتھ کیے چلے جاؤ اور فیصلہ ہم پر چھوڑ دو۔ یہاں بظاہر خطاب نبی ﷺ سے ہے، مگر دراصل بات ان مخالفین کو سنانی مقصود ہے جو چیلنج کے انداز میں بار بار حضور ﷺ سے کہتے تھے کہ ہماری جس شامت کی دھمکیاں تم ہمیں دیا کرتے ہو آخر وہ آکیوں نہیں جاتی۔