Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 13. Ar-Ra'd · Ayah 41

  1. اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا١ؕ وَ اللّٰهُ یَحْكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهٖ١ؕ وَ هُوَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ﴿41﴾

    1. اَوَکیا
    2. لَمْ يَرَوْاوہ نہیں دیکھتے
    3. اَنَّا نَاْتِيکہ ہم چلے آتے ہیں
    4. الْاَرْضَزمین
    5. نَنْقُصُهَااس کو گھٹائے
    6. مِنْسے
    7. اَطْرَافِهَااس کے کنارے
    8. ۭوَاللّٰهُاور اللہ
    9. يَحْكُمُحکم فرماتا ہے
    10. لَا مُعَقِّبَکوئی پیچھے ڈالنے والا نہیں
    11. لِحُكْمِهٖاس کے حکم کو
    12. وَهُوَاور وہ
    13. سَرِيْعُجلد
    14. الْحِسَابِحساب لینے والا
Translation · Tafheem-ul-Quran
کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں ہیں کہ ہم اِس سرزمین پر چلے آرہے ہیں اور اس کا دائرہ ہر طرف سے تنگ کرتے چلے آرہے ہیں؟60 اللہ حکومت کر رہا ہے، کوئی اس کے فیصلوں پر نظرثانی کرنے والا نہیں ہے، اور حساب لیتے کچھ دیر نہیں لگتی
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الرَّعْد 60 یعنی کیا تمہارے مخلافین کو نظر نہیں آ رہا ہے کہ اسلام کا اثر سر زمین عرب کے گوشے گوشے میں پھیلتا جا رہا ہے اور چاروں طرف سے ان پر حلقہ تنگ ہوتا چلا جاتا ہے ؟ یہ ان کی شامت کے آثار نہیں ہیں تو کیا ہیں ؟ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ ”ہم اس سرزمین پر چلے آرہے ہیں“ ایک نہایت لطیف انداز بیان ہے۔ کیونکہ دعوت حق اللہ کی طرف سے ہوتی ہے اور اللہ اس کے پیش کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے، اس لیے کسی سر زمین میں اس دعوت کے پھیلنے کو اللہ تعالیٰ یوں تعبیر فرماتا ہے کہ ہم خود اس سرزمین میں بڑھے چلے آرہے ہیں۔