تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 14. Ibrahim · Ayah 13
وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُمْ مِّنْ اَرْضِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا١ؕ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ الظّٰلِمِیْنَۙ﴿13﴾
- وَقَالَاور کہا
- الَّذِيْنَ كَفَرُوْاجن لوگوں نے کفر کیا (کافر)
- لِرُسُلِهِمْاپنے رسولوں کو
- لَنُخْرِجَنَّكُمْضرور ہم تمہیں نکال دیں گے
- مِّنْسے
- اَرْضِنَآاپنی زمین
- اَوْیا
- لَتَعُوْدُنَّتم لوٹ آؤ
- فِيْ مِلَّتِنَاہمارے دین میں
- فَاَوْحٰٓىتو وحی بھیجی
- اِلَيْهِمْان کی طرف
- رَبُّهُمْان کا رب
- لَنُهْلِكَنَّضرور ہم ہلاک کردینگے
- الظّٰلِمِيْنَظالم (جمع)
Translation · Tafheem-ul-Quran
آخرِ کار منکرین نے اپنے رسُولوں سے کہہ دیا کہ ”یا تو تمہیں ہماری ملّت میں واپس آنا ہوگا22 ورنہ ہم تمہیں اپنے ملک سے نکال دیں گے۔“ تب اُن کے ربّ نے اُن پر وحی بھیجی کہ ”ہم اِن ظالموں کو ہلاک کر دیں گے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة اِبْرٰهِیْم 22
اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) منصب نبوت پر سرفراز ہونے سے پہلے اپنی گمراہ قوموں کی ملت میں شامل ہوا کرتے تھے، بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ نبوت سے پہلے چونکہ وہ ایک طرح کی خاموش زندگی بسر کرتے تھے، کسی دین کی تبلیغ اور کسی رائج الوقت دین کی تردید نہیں کرتے تھے، اس لیے ان کی قوم یہ سمجھتی تھی کہ وہ ہماری ہی ملت میں ہیں، اور نبوت کا کام شروع کردینے کے بعد ان پر یہ الزام لگایا جاتا تھا کہ وہ ملت آبائی سے نکل گئے ہیں۔ حالانکہ وہ نبوت سے پہلے بھی کبھی مشرکین کی ملت میں شامل نہ ہوئے تھے کہ اس سے خروج کا الزام ان پر لگ سکتا۔