Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 14. Ibrahim · Ayah 23

  1. وَ اُدْخِلَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ١ؕ تَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمٌ﴿23﴾

    1. وَاُدْخِلَاور داخل کیے گئے
    2. الَّذِيْنَ اٰمَنُوْاجو لوگ ایمان لائے
    3. وَعَمِلُوااور انہوں نے عمل کیے
    4. الصّٰلِحٰتِنیک
    5. جَنّٰتٍباغات
    6. تَجْرِيْبہتی ہیں
    7. مِنْ تَحْتِهَاان کے نیچے
    8. الْاَنْهٰرُنہریں
    9. خٰلِدِيْنَوہ ہمیشہ رہیں گے
    10. فِيْهَااس میں
    11. بِاِذْنِحکم سے
    12. رَبِّهِمْاپنا رب
    13. تَحِيَّتُهُمْان کا تحفہ ملاقات
    14. فِيْهَااس میں
    15. سَلٰمٌسلام
Translation · Tafheem-ul-Quran
بخلاف اس کے جو لوگ دُنیا میں ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں وہ ایسے باغوں میں داخل کیے جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ وہاں وہ اپنے ربّ کے اِذن سے ہمیشہ رہیں گے، اور وہاں اُن کا استقبال سلامتی کی مبارکباد سے ہوگا۔33
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة اِبْرٰهِیْم 33 تَحیّہ کے لغوی معنی ہیں دعائے درازی عمر۔ مگر اصطلاحا عربی زبان میں یہ لفظ اس کلمہ خیر مقدم یا کلمہ استقبال کے لیے بولا جاتا ہے جو لوگ آمنا سامنا ہونے پر سب سے پہلے ایک دوسرے سے کہتے ہیں۔ اردو میں اس کا ہم معنی لفظ یا تو ”سلام“ ہے، یا پھر علیک سلیک۔ لیکن پہلا لفظ استعمال کرنے سے ترجمہ ٹھیک نہیں ہوتا اور دوسرا لفظ مبتذل ہے، اس لیے ہم نے اس کا ترجمہ ”استقبال“ کیا ہے۔ تَحِیَّتُھُمْ کے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ ان کے درمیان آپس میں ایک دوسرے کے استقبال کا طریقہ یہ ہوگا، اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ ان کا اس طرح استقبال ہوگا۔ نیز سلامٌ میں دعائے سلامتی کا مفہوم بھی ہے اور سلامتی کی مبارکباد کا بھی۔ ہم نے موقع کی مناسبت کا لحاظ کرتے ہوئے وہ مفہوم اختیار کیا ہے جو ترجمہ میں درج ہے۔