تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 14. Ibrahim · Ayah 24
اَلَمْ تَرَ كَیْفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَیِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَیِّبَةٍ اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّ فَرْعُهَا فِی السَّمَآءِۙ﴿24﴾
- اَلَمْ تَرَکیا تم نے نہیں دیکھا
- كَيْفَکیسی
- ضَرَبَ اللّٰهُبیان کی اللہ نے
- مَثَلًامثال
- كَلِمَةً طَيِّبَةًکلمہ طیبہ (پاک بات)
- كَشَجَرَةٍجیسے درخت
- طَيِّبَةٍپاکیزہ
- اَصْلُهَااس کی جڑ
- ثَابِتٌمضبوط
- وَّفَرْعُهَااور اس کی شاخ
- فِيمیں
- السَّمَآءِآسمان
Translation · Tafheem-ul-Quran
کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے کلمہٴ طیّبہ34 کو کس چیز سے مثال دی ہے؟ اِس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اچھی ذات کا درخت جس کی جڑ زمین میں گہری جمّی ہوئی ہے اور شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں35
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة اِبْرٰهِیْم 34
کلمہ طیبہ کے لفظی معنی ”پاکیزہ بات“ کے ہیں، مگر اس سے مراد وہ قول حق اور عقیدہ صالحہ جو سراسر حقیقت اور راستی پر مبنی ہو۔ یہ قول اور عقیدہ قرآن مجید کی رو سے لازما وہی ہوسکتا ہے جس میں توحید کا اقرار، انبیاء (علیہم السلام) اور کتب آسمانی کا اقرار، اور آخرت کا اقرار ہو، کیونکہ قرآن انہی امور کو بنیادی صداقتوں کی حیثیت سے پیش کرتا ہے۔
سورة اِبْرٰهِیْم 35
دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہوا کہ زمین سے لے کر آسمان تک چونکہ سارا نظام کائنات اسی حقیقت پر مبنی ہے جس کا اقرار ایک مومن اپنے کلمہ طیبہ میں کرتا ہے، اس لیے کسی گوشے میں بھی قانون فطرت اس سے نہیں ٹکراتا، کسی شے کی بھی اصل اور جبلت اس سے ابا نہیں کرتی، کہیں کوئی حقیقت اور صداقت اس سے متصادم نہیں ہوتی۔ اسی لیے زمین اور اس کا پورا نظام اس سے تعاون کرتا ہے، اور آسمان اور اس کا پورا عالم اس کا خیر مقدم کرتا ہے۔