تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 14. Ibrahim · Ayah 25
تُؤْتِیْۤ اُكُلَهَا كُلَّ حِیْنٍۭ بِاِذْنِ رَبِّهَا١ؕ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ﴿25﴾
- تُؤْتِيْٓوہ دیتا ہے
- اُكُلَهَااپنا پھل
- كُلَّ حِيْنٍہر وقت
- بِاِذْنِحکم سے
- رَبِّهَااپنا رب
- وَيَضْرِبُاور بیان کرتا ہے
- اللّٰهُاللہ
- الْاَمْثَالَمثالیں
- لِلنَّاسِلوگوں کے لیے
- لَعَلَّهُمْتاکہ وہ
- يَتَذَكَّرُوْنَوہ غور وفکر کریں
Translation · Tafheem-ul-Quran
ہر آن وہ اپنے ربّ کے حکم سے اپنے پھل دے رہا ہے۔36 یہ مثالیں اللہ اِس لیے دیتا ہے کہ لوگ اِن سے سبق لیں
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة اِبْرٰهِیْم 36
یعنی وہ ایسا بار آور اور نتیجہ خیز کلمہ ہے کہ جو شخص یا قوم اسے بنیاد بنا کر اپنی زندگی کا نظام اس پر تعمیر کرے، اس کو ہر آن اس کے مفید نتائج حاصل ہوتے رہتے ہیں۔ وہ فکر میں سلجھاؤ، طبیعت میں سلامت، مزاج میں اعتدال، سیرت میں مضبوطی، اخلاق میں پاکیزگی، روح میں لطافت، جسم میں طہارت و نظافت، برتاؤ میں خوشگواری، معاملات میں راست بازی، کلام میں صداقت شعاری، قول وقرار میں پختگی، معاشرت میں حسن سلوک، تہذیب میں فضیلت، تمدن میں توازن، معیشت میں عدل و مواساۃ، سیاست میں دیانت، جنگ میں شرافت، صلح میں خلوص اور عہدوپیمان میں وثوق پیدا کرتا ہے، وہ ایک ایسا پارس ہے جس کی تاثیر اگر کوئی ٹھیک ٹھیک قبول کرلے تو کندن بن جائے۔